المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّازِعَاتِ باب: تفسیر سورۂ النازعات
أخبرنا أبو النَّضْر الفقيه، حدَّثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، أخبرنا قَبيصة بن عُقْبة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أبيِّ بن كعب، عن أبيِّ بن كعب قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذهب ربعُ الليل قال: "يا أيُّها الناسُ، اذكُروا الله، يا أيُّها الناسُ، اذكُروا الله، جاءت الرَّاجفةُ تَتْبعُها الرادفةُ، جاء الموتُ بما فيه، جاء الموتُ بما فيه". فقال أبي بن كعب: يا رسول الله، إني أُكثِرُ الصلاةَ عليك، فكم أجعلُ [لك] من صلاتي؟ قال: "ما شئت" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3894 - صحيحسیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رات کا چوتھائی حصہ گزر جاتا تو رسول اللہ ﷺ (بیدار ہو کر) فرماتے: ”اے لوگو! اللہ کو یاد کرو، اے لوگو! اللہ کو یاد کرو، (قیامت کا پہلا صور) «الرَّاجفةُ» آ گیا ہے جس کے پیچھے دوسرا صور «الرادفةُ» آئے گا، موت اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ آ پہنچی ہے، موت اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ آ پہنچی ہے۔“ پس سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، تو میں اپنی دعا کا کتنا حصہ آپ کے لیے (درود کے لیے) مخصوص کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے۔ سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وقد سلف برقم (3620).
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3620) پر گزر چکی ہے۔