المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّازِعَاتِ باب: تفسیر سورۂ النازعات
حدَّثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدَّثنا بِشْر بن موسى الأسَدي، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: كان النبي ﷺ يُسأَلُ عن الساعةِ حتى أُنزِلَ عليه: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا (42) فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾ [النازعات: 42 - 44]، قال: فانتَهى (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، فإنَّ ابن عُيَينة كان يُرسِله بأَخَرةٍ. 80 - تفسير سورة (عبس وتولَّى) ﷽
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے قیامت کے متعلق پوچھا جاتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا (42) فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا (43) إِلَى رَبِّكَ مُنْتَهَاهَا﴾ [سورة النازعات: 42-44] ”لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہوگا؟ آپ کو اس کے ذکر سے کیا واسطہ؟ اس کا علم تو صرف آپ کے رب ہی تک (محدود) ہے“، پس آپ ﷺ نے (اس بارے میں گفتگو کرنے سے) سکوت فرما لیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ابن عیینہ آخری عمر میں اسے مرسل روایت کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ سفیان سے مراد "ابن عیینہ" ہیں۔ یہ پہلے نمبر (7) پر گزر چکی ہے۔
قوله: فانتهى، لم يرد إلّا عند المصنف في هذا الموضع، والمراد: انتهى السائل عن سؤاله عن الساعة.
نوٹ / توضیح: قول "فانتهى" صرف مصنف کے ہاں اس جگہ آیا ہے، اس سے مراد ہے: سائل قیامت کے بارے میں اپنے سوال سے رک گیا۔