المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُدَّثِّرِ باب: تفسیر سورۂ المدثر
حدیث نمبر: 3910
حدثنا الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمةَ قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن داود بن أبي هِند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1)﴾، قال: دُثِّرتَ هذا الأمرَ فقُمْ به (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3868 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ﴾ [سورة المدثر: 1] کے متعلق مروی ہے، انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) آپ ﷺ کو اس معاملے (تبلیغِ دین) کی چادر پہنا دی گئی ہے، لہذا اب آپ اس کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، والمحفوظ فيه أنه من تفسير عكرمة لا ابن عبَّاس كما سلف بيانه برقم (3905).
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، لیکن اس میں "محفوظ" بات یہ ہے کہ یہ عکرمہ کی تفسیر ہے نہ کہ ابن عباس کی، جیسا کہ پہلے نمبر (3905) پر اس کا بیان گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، لیکن اس میں "محفوظ" بات یہ ہے کہ یہ عکرمہ کی تفسیر ہے نہ کہ ابن عباس کی، جیسا کہ پہلے نمبر (3905) پر اس کا بیان گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3910 سے ماخوذ ہے۔