حدیث نمبر: 3913
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، حدثنا عتّاب (4) بن المثنَّى، حدثني بَهْز بن حَكيم قال: أَمَّنا زُرَارَةُ بن أَوفى في مسجد بني قُشير، فقرأ المدَّثِّر، فلما انتهى إلى هذه الآية: ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [المدثر: 8]، خَرَّ ميّتًا، قال بَهْر: فكنتُ فيمن حَمَله (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3871 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

بہز بن حکیم رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بنو قشیر کی مسجد میں زرارہ بن اوفی رحمہ اللہ نے ہمیں نماز پڑھائی، انہوں نے سورہ مدثر کی تلاوت کی، پس جب وہ اس آیت ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [سورة المدثر: 8] پر پہنچے تو (خوفِ الٰہی سے) گرے اور وفات پا گئے، بہز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے ان کا جنازہ اٹھایا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3913
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن إن شاء الله من أجل عتاب بن المثنى
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله من أجل عتاب بن المثنى، وإسحاق بن إبراهيم الذي يروي عنه: هو إسحاق بن أبي إسرائيل.» [ترقيم الرساله 3913] [ترقيم الشركة 3892] [ترقيم العلميه 3871]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تصحف في نسخنا الخطية إلى: غياث.
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تصحیف ہو کر "غیاث" بن گیا ہے۔
(1) إسناده حسن إن شاء الله من أجل عتاب بن المثنى، وإسحاق بن إبراهيم الذي يروي عنه: هو إسحاق بن أبي إسرائيل.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے عتاب بن مثنیٰ کی وجہ سے۔ اور اسحاق بن ابراہیم جو ان سے روایت کر رہے ہیں وہ "اسحاق بن ابی اسرائیل" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (445 م) عن عبَّاس بن عبد العظيم العنبري، عن عتاب بن المثنى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (445 م) نے عباس بن عبد العظیم عنبری سے، انہوں نے عتاب بن مثنیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3913 سے ماخوذ ہے۔