المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمُدَّثِّرِ باب: تفسیر سورۂ المدثر
حدیث نمبر: 3912
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبَّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا يزيد بن هارون والأنصاريُّ، عن سليمان التَّيْمي، عن أسلمَ العِجْلي، عن بِشْر بن شَغَاف، عن عبد الله بن عَمرو بن العاص قال: جاء أعرابيٌّ إلى النبي ﷺ فقال: ما الصُّورُ؟ قال: "قَرْنُ يُنفَخ فيه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3870 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: (روزِ قیامت بجایا جانے والا) ”صور“ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ایک سینگ (نما آلہ) ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. الأنصاري: هو محمد بن عبد الله بن المثنى من أولاد أنس بن مالك.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ انصاری سے مراد "محمد بن عبد اللہ بن مثنیٰ" ہیں جو انس بن مالک کی اولاد میں سے ہیں۔
وقد سلف الحديث برقم (3673) من طريق معمر عن سليمان بن طرخان التيمي.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث پہلے نمبر (3673) پر معمر عن سلیمان بن طرخان تیمی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ انصاری سے مراد "محمد بن عبد اللہ بن مثنیٰ" ہیں جو انس بن مالک کی اولاد میں سے ہیں۔
وقد سلف الحديث برقم (3673) من طريق معمر عن سليمان بن طرخان التيمي.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث پہلے نمبر (3673) پر معمر عن سلیمان بن طرخان تیمی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3912 سے ماخوذ ہے۔