حَدَّثَنَا أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حَدَّثَنَا أَبي، حَدَّثَنَا هشام بن عمّار وأبو مسلم عبد الرحمن بن واقد الحرَّاني قالا: حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حَدَّثَنَا زهير بن محمد، عن محمد بن محمد بن المنكَدِر، عن جابر بن عبد الله قال: لما قرأَ رسول الله ﷺ سورةَ الرحمن على أصحابه حتَّى فَرَغَ، قال: "ما لي أراكم سُكوتًا! لَلجِنُّ كانوا أحسن منكم ردًّا، ما قرأتُ عليهم من مرّةٍ: ﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾ [الرحمن: 13]، إلَّا قالوا: ولا بشيءٍ من نِعَمِك ربَّنا نكذِّبُ، فلكَ الحمدُ" (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3766 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3766 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے سامنے سورہ رحمٰن کی تلاوت مکمل فرمائی تو ارشاد فرمایا: ”کیا بات ہے کہ میں تمہیں بالکل خاموش دیکھ رہا ہوں! یقیناً جنات جواب دینے میں تم سے بہتر تھے، میں نے جب بھی ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی ﴿فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ﴾ ”پس تم دونوں اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے“ [سورة الرحمن: 13] تو انہوں نے (جواباً) کہا: «وَلَا بِشَيْءٍ مِنْ نِعَمِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ، فَلَكَ الْحَمْدُ» ”اے ہمارے رب! ہم تیری کسی بھی نعمت کو نہیں جھٹلاتے، پس تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا وكيع ويحيى بن آدم قالا: حَدَّثَنَا إسرائيل، عن سِماك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا﴾ [مريم: 65]، قال: لا يُسمَّى أحدٌ الرحمنَ غيرُه (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3767 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3767 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا﴾ ”کیا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو؟“ [سورة مريم: 65] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا نام ”الرحمن“ نہیں رکھا جاتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار العَدْل، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل، حَدَّثَنَا أبو نُعيم وأبو غسّان قالا: حَدَّثَنَا إسرائيل، عن سِماك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: ﴿الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ﴾ [الرحمن: 5] قال: بحِسابٍ ومَنازلَ (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3768 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3768 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ﴾ ”سورج اور چاند ایک حساب (مقررہ نظام) کے مطابق ہیں“ [سورة الرحمن: 5] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(اس سے مراد) حساب اور ان کی مقررہ منزلیں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العنبري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا يحيى بن اليَمَان، حَدَّثَنَا المِنهال بن خَليفة، عن حجَّاج، عن عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ﴾ [الرحمن: 6]، قال: النَّجمُ: ما أَنجَمَت الأرضُ، والشجرُ: ما كان على ساقٍ (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3769 - منهال بن خليفة ضعفه ابن معين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3769 - منهال بن خليفة ضعفه ابن معين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ﴾ ”اور ستارے (یا زمین سے اگنے والی بیلیں) اور درخت“ [سورة الرحمن: 6] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”«النجم» سے مراد وہ پودے ہیں جو زمین سے اگتے ہیں (لیکن ان کا تنا نہیں ہوتا) اور «الشجر» سے مراد وہ درخت ہیں جو تنے پر کھڑے ہوتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔