کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سورۂ ق کی تفسیر: ق ایک زمرد کا پہاڑ ہے جو دنیا کو گھیرے ہوئے ہے
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامرِي، حَدَّثَنَا أبو أسامة، عن صالح بن حيَّان، عن عبد الله بن بُرَيدة في قول الله ﷿: ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾، قال: جبلٌ من زُمرُّدِ محيطٌ بالدنيا، عليه كَنَفا السماء (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3727 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ ﴿ق﴾ زمرّد کا ایک پہاڑ ہے جس نے دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اور اسی پر آسمان کے کنارے ٹکے ہوئے ہیں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3769
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، صالح بن حيان متَّفق على ضعفه ووهّاه الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 7/ 373. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 3769] [ترقيم الشركة 3748] [ترقيم العلميه 3727]
حدثني إبراهيم بن مُضارِب، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل، حَدَّثَنَا هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا المسعوديُّ، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه قُطْبة بن مالك قال: سمعتُ النَّبِيّ ﷺ يقرأ في صلاة الصُّبح (ق)، فلما أتى على هذه الآية: ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ [ق: 10]، قال قُطْبة: فجعلتُ أقول: ما بُسُوقُها؟ فقال: "طُولُها" (2). قد أخرج مسلم هذا الحديثَ بغير هذه السِّياقة، ولم يَذكُر تفسيرَ البُسوقِ فيه، وهو صحيح على شرطه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3728 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صبح کی نماز میں سورہ ﴿ق﴾ تلاوت کرتے ہوئے سنا، پھر جب آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے: ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ ”اور کھجور کے بلند و بالا درخت جن کے خوشے تہہ در تہہ ہیں“ [سورة ق: 10]، تو قطبہ کہتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا: ان کے «بُسُوق» ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد ان کی لمبائی (اور بلندی) ہے۔“
امام مسلم نے یہ حدیث اس سیاق کے علاوہ روایت کی ہے اور اس میں لفظ «بُسُوق» کی تفسیر ذکر نہیں کی، اور یہ امام مسلم کی شرط پر صحیح۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3770
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح دون تفسير البُسوق فيه وجعله مرفوعًا
تخریج حدیث «حديث صحيح دون تفسير البُسوق فيه وجعله مرفوعًا، فهذا من أوهام المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن عتبة - فإنه كان قد اختلط، وسماع هاشم بن القاسم منه بعد اختلاطه، وقد جعله البزار في "مسنده" بإثر الحديث (3705) من أوهام المسعودي.» [ترقيم الرساله 3770] [ترقيم الشركة 3749] [ترقيم العلميه 3728]
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حَدَّثَنَا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حَدَّثَنَا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حَدَّثَنَا موسى بن يعقوب، عن عمِّه الحارث بن عبد الله بن زَمْعة، عن أبيه، عن أم سَلَمة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَعَدُّ بن عدنان بن أُدَد بن زَنْد بن ثرا (1) بن أعراق الثّرى"، قالت: ثم قرأَ رسول الله ﷺ: "أهلَكَ عادًا وثمودَ وأصحابَ الرَّسِّ وقرونًا بينَ ذلك كثيرًا لا يعلمهم إلَّا الله". قالت أم سلمة: وأعراق الثَّرى: إسماعيل بن إبراهيم، وزَنْدٌ: هَمَيسَع، وثرا (1): نَبْتٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3729 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اپنا نسب بیان کرتے ہوئے) یہ فرماتے ہوئے سنا: ”معد بن عدنان بن ادد بن زند بن ثرا بن اعراق الثری“، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا﴾ [سورة الفرقان: 38] (جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان قوموں کی تفصیل اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی کہ «اعراق الثري» سے مراد سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام ہیں، «زند» سے مراد «هَميْسَع» ہے اور «ثرا» سے مراد «نَبْت» ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3771
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف كما سلف بيانه عند المصنّف برقم (3561)» [ترقيم الرساله 3771] [ترقيم الشركة 3750] [ترقيم العلميه 3729]
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجرُ، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرّازي، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الأنصاري، حَدَّثَنَا هشام بن حسَّان، عن عِكْرمة، عن ابن عبَاس: أنه سُئِلَ عن هذه الآية: ﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ [ق: 18]، قال: فقال ابن عَبَّاس: إنما يُكتَب الخيرُ والشرُّ، لا يُكتَب: يا غلام أَسرِجِ الفرس، ويا غلام اسقِني الماء، إنما يُكتب الخيرُ والشرُّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3730 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اس آیت ﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ ”وہ جو بات بھی منہ سے نکالتا ہے تو اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار ہوتا ہے“ [سورة ق: 18] کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”صرف خیر اور شر کی باتیں لکھی جاتی ہیں، یہ (معمولی باتیں) نہیں لکھی جاتیں کہ اے لڑکے گھوڑے پر زین کس دو یا اے لڑکے مجھے پانی پلا دو، بلکہ صرف وہی بات لکھی جاتی ہے جس میں نیکی یا گناہ ہو۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3772
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس.» [ترقيم الرساله 3772] [ترقيم الشركة 3751] [ترقيم العلميه 3730]