حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا محمد بن نُعيم، حَدَّثَنَا قُتَيبة، حَدَّثَنَا الليث بن سعد عن يزيد بن عبد الله بن الهادِ، عن موسى بن سَرجِسَ قال: سمعت ابنَ محمد يُحدِّث وتَلَا قولَ الله ﷿: ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ [ق: 19]، ثم قال: حدَّثتني أمُّ المؤمنين قالت: لقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ وهو بالموت وعنده قَدحٌ فيه ماءٌ وهو يُدخِل يدَه في القَدَح، ثم يَمسَحُ وجهَه بالماء، ثم يقول: "اللهم أعِنِّي على سَكَراتِ الموت" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3731 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3731 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ﴾ ”اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آ پہنچی، یہی وہ چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا“ [سورة ق: 19] کی تلاوت کی، پھر کہا کہ مجھے ام المؤمنین (سیدہ عائشہ) رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات کے وقت دیکھا کہ آپ کے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھا تھا، آپ اپنا ہاتھ اس پیالے میں ڈالتے پھر اس سے اپنے چہرہ مبارک کا مسح فرماتے اور یہ دعا کرتے: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ» ”اے اللہ! موت کی سختیوں (اور تکلیفوں) پر میری مدد فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل ومحمد بن أحمد الدارَبردي، قالا: حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا سُرَيج بن النعمان الجَوهَري، حَدَّثَنَا عبد الله بن نافع، عن عاصم بن عمر، عن أبي بكر بن سالم، عن سالم، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "أنا أولُ من تَنشَقُّ الأرضُ عنه، ثم أبو بكرٍ، ثم عمرُ، ثم آتي أهلَ البَقِيع، فيُحشَرون معي، ثم أَنتظرُ أهلَ مكة". قال: وتلا عبدُ الله بن عمر: ﴿يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ذَلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ﴾ [ق: 44] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3732 - عبد الله بن نافع ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3732 - عبد الله بن نافع ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہ پہلا شخص ہوں جس سے زمین شق ہوگی (یعنی سب سے پہلے میں قبر سے اٹھوں گا)، پھر ابوبکر، پھر عمر، پھر میں اہل بقیع کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے، پھر میں اہل مکہ کا انتظار کروں گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ذَلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ﴾ ”جس دن زمین ان سے پھٹ جائے گی تو وہ تیزی سے نکلیں گے، یہ جمع کرنا ہم پر بہت آسان ہے“ [سورة ق: 44]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الرحمن القرشي بهَراةَ، حَدَّثَنَا سعيد بن منصور المكِّي، حَدَّثَنَا عبَّاد بن العوَّام، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن جَرير بن عبد الله قال: أُتيَ النَّبِيُّ ﷺ برجل تُرعَدُ فَرائصُه، قال: فقال له: "هوِّنْ عليك، فإنَّما أنا ابن امرأةٍ من قُريشٍ كانت تأكلُ القَدِيدَ في هذه البَطْحاءِ". قال: ثم تلا جريرُ بن عبد الله البَجَلي: ﴿فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ﴾ [ق: 45] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3733 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3733 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص لایا گیا جس کے کندھے (خوف کی وجہ سے) تھرتھرا رہے تھے، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں، میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو اس بطحاء (مکہ کی وادی) میں قدید (دھوپ میں سکھایا ہوا نمکین گوشت) کھایا کرتی تھی۔“ راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ﴾ ”پس آپ قرآن کے ذریعے اسے نصیحت کریں جو میری وعید سے ڈرتا ہو“ [سورة ق: 45]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔