المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ ق — قُ جَبَلٌ مِن زُمُرُّدٍ مُحِيطٌ بِالدُّنْيَا باب: سورۂ ق کی تفسیر: ق ایک زمرد کا پہاڑ ہے جو دنیا کو گھیرے ہوئے ہے
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حَدَّثَنَا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حَدَّثَنَا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حَدَّثَنَا موسى بن يعقوب، عن عمِّه الحارث بن عبد الله بن زَمْعة، عن أبيه، عن أم سَلَمة قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَعَدُّ بن عدنان بن أُدَد بن زَنْد بن ثرا (1) بن أعراق الثّرى"، قالت: ثم قرأَ رسول الله ﷺ: "أهلَكَ عادًا وثمودَ وأصحابَ الرَّسِّ وقرونًا بينَ ذلك كثيرًا لا يعلمهم إلَّا الله". قالت أم سلمة: وأعراق الثَّرى: إسماعيل بن إبراهيم، وزَنْدٌ: هَمَيسَع، وثرا (1): نَبْتٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3729 - صحيحسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (اپنا نسب بیان کرتے ہوئے) یہ فرماتے ہوئے سنا: ”معد بن عدنان بن ادد بن زند بن ثرا بن اعراق الثری“، پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا﴾ [سورة الفرقان: 38] (جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان قوموں کی تفصیل اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی کہ «اعراق الثري» سے مراد سیدنا اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام ہیں، «زند» سے مراد «هَميْسَع» ہے اور «ثرا» سے مراد «نَبْت» ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں دونوں جگہ یہ لفظ "ث" (مثلثہ) کے ساتھ ہے، جبکہ (ص) اور (ع) میں بغیر نقطوں کے، اور (ب) میں "برا" ہے۔ اس پر کلام حدیث نمبر (3561) میں گزر چکا ہے۔
(2) إسناده ضعيف كما سلف بيانه عند المصنّف برقم (3561)
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں حدیث نمبر (3561) میں بیان ہوا۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 1/ 178 - 179 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوة" (1/ 178-179) میں ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الصغير" (946) من طريق عبد العزيز بن عمران بن عمر، عن موسى بن يعقوب الزمعي، به. وعبد العزيز متروك الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی "الصغیر" (946) میں عبد العزیز بن عمران عن موسیٰ بن یعقوب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: عبد العزیز متروک الحدیث ہے۔