أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي يحيى، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ﴾ [محمد: 1]، قال: منهم أهل مكة، ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ [محمد: 2]، قال: هم الأنصارُ، قال: ﴿وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴾، قال: أمْرَهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3703 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3703 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ﴾ [سورة محمد: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ان سے مراد اہل مکہ ہیں، اور ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ [سورة محمد: 2] کے متعلق فرمایا: یہ انصار ہیں، اور ﴿وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ﴾ کے متعلق فرمایا: یعنی اللہ نے ان کے معاملات کی اصلاح فرما دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله بن بُسْر، عن أبي أُمامة، عن النَّبِيّ ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِن مَّاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16 - 17] قال: "يُقرَّبُ إليه فيتكرَّهُه، فإذا أُدنيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فروةُ رأسه، فإذا شربه قَطَّعَ أمعاءَه حتَّى يَخرُجَ من دُبُرِه" يقول الله ﷿: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15]، يقول الله ﷿: ﴿وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِى الوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَيُسْقَى مِن مَّاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [سورة إبراهيم: 16 - 17] کے بارے میں فرمایا: ”وہ پیپ اس کے قریب لائی جائے گی تو وہ اسے ناپسند کرے گا، جب وہ اس کے بالکل قریب کر دی جائے گی تو وہ اس کے چہرے کو بھون ڈالے گی اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی، پھر جب وہ اسے پیے گا تو وہ اس کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے کے راستے سے نکل جائیں گی“، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ ”اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا“ [سورة محمد: 15]، اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِى الوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے جیسا ہوگا جو چہروں کو بھون ڈالے گا، کتنا برا ہے وہ مشروب۔“ [سورة الكهف: 29]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا يحيى بن آدم، حَدَّثَنَا شَرِيك، عن عثمان أبي اليَقْظان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا﴾ [محمد: 16]، قال: كنتُ فيمن يُسأل (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3705 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3705 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا﴾ ”یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم دیا گیا ہے پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟“ [سورة محمد: 16] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ان لوگوں میں شامل تھا جن سے اس بارے میں پوچھا جاتا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔