حدیث نمبر: 3747
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا يحيى بن آدم، حَدَّثَنَا شَرِيك، عن عثمان أبي اليَقْظان، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا﴾ [محمد: 16]، قال: كنتُ فيمن يُسأل (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3705 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا﴾ ”یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم دیا گیا ہے پوچھتے ہیں کہ اس نے ابھی کیا کہا تھا؟“ [سورة محمد: 16] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ان لوگوں میں شامل تھا جن سے اس بارے میں پوچھا جاتا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3747
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف عثمان أبي اليقظان وشريك» [ترقيم الرساله 3747] [ترقيم الشركة 3726] [ترقيم العلميه 3705]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف لضعف عثمان أبي اليقظان وشريك - وهو ابن عبد الله النخعي - وإن كان صدوقًا في حفظه سوء. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.
درجۂ حدیث: یہ سند "ضعیف" ہے کیونکہ اس میں عثمان ابو الیقظان ضعیف ہے اور شریک (ابن عبد اللہ نخعی) اگرچہ صدوق ہے لیکن اس کے حافظے میں خرابی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم سے مراد ابن راہویہ ہیں۔
وأخرجه الطبري 26/ 51 عن أبي كريب محمد بن العلاء، عن يحيى بن آدم، عن شريك، عن عثمان بن أبي اليقظان، عن يحيى بن الجزار أو سعيد بن جبير، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبری (26/ 51) نے ابو کریب محمد بن علاء عن یحییٰ بن آدم عن شریک عن عثمان بن ابی الیقظان عن یحییٰ بن جزار یا سعید بن جبیر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3747 سے ماخوذ ہے۔