حدیث نمبر: 3746
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله بن بُسْر، عن أبي أُمامة، عن النَّبِيّ ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِن مَّاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16 - 17] قال: "يُقرَّبُ إليه فيتكرَّهُه، فإذا أُدنيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فروةُ رأسه، فإذا شربه قَطَّعَ أمعاءَه حتَّى يَخرُجَ من دُبُرِه" يقول الله ﷿: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15]، يقول الله ﷿: ﴿وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِى الوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَيُسْقَى مِن مَّاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [سورة إبراهيم: 16 - 17] کے بارے میں فرمایا: ”وہ پیپ اس کے قریب لائی جائے گی تو وہ اسے ناپسند کرے گا، جب وہ اس کے بالکل قریب کر دی جائے گی تو وہ اس کے چہرے کو بھون ڈالے گی اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی، پھر جب وہ اسے پیے گا تو وہ اس کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے کے راستے سے نکل جائیں گی“، اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ ”اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا“ [سورة محمد: 15]، اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَإِن يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِى الوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے جیسا ہوگا جو چہروں کو بھون ڈالے گا، کتنا برا ہے وہ مشروب۔“ [سورة الكهف: 29]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3746
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات غير عبد الله بن بسر فقد اختُلف في تعيينه كما هو مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد". والحديث مكرر ما سلف برقم (3379).» [ترقيم الرساله 3746] [ترقيم الشركة 3725]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات غير عبد الله بن بسر فقد اختُلف في تعيينه كما هو مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد". والحديث مكرر ما سلف برقم (3379).
درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں سوائے عبد اللہ بن بسر کے، جن کی تعین میں اختلاف ہے (تفصیل مسند احمد کے حاشیے میں ہے)۔
نوٹ / توضیح: یہ حدیث نمبر (3379) پر مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3746 سے ماخوذ ہے۔