حَدَّثَنَا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حَدَّثَنَا محمد بن المغيرة السُّكَّري، حَدَّثَنَا محمد بن القاسم الأَسَدي، حَدَّثَنَا سفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن عُبيد بن المغيرة قال: سمعتُ حُذيفةَ، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ﴾ [محمد: 19]، قال: كنت رجلًا ذَرِبَ اللسانِ على أهلي، فقلت: يا رسول الله، إني لأخشى أن يُدخِلَني لساني النارَ. فقال النَّبِيّ ﷺ: فأينَ أنت من الاستغفارِ؟! إني لأستغفرُ الله في اليوم مئةَ مرةٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه هكذا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3706 - صحيحسیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ﴾ ”پس جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگیے“ [سورة محمد: 19] اور فرمایا: میں اپنے گھر والوں کے معاملے میں کچھ تیز زبان تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اندیشہ ہے کہ میری زبان مجھے جہنم میں نہ لے جائے، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم استغفار سے کیوں غافل ہو؟! میں تو دن میں سو سو مرتبہ اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ سند "سخت ضعیف" ہے کیونکہ اس میں محمد بن قاسم اسدی متروک ہے اور امام احمد نے اسے جھوٹا کہا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: تاہم وہ اس حدیث میں منفرد نہیں، یہ نمبر (1902) پر سفیان ثوری کے علاوہ دوسرے طریق سے گزر چکی ہے، اور وہاں عبید بن مغیرہ کی وجہ سے سند کے "حسن" ہونے کا احتمال ہے۔