حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الأعمش، عن عَدِيِّ بن ثابت، عن سليمان بن صُرَدٍ قال: استَبَّ رجلان قُربَ النبي ﷺ، فاشتدَّ غضبُ أحدهما، فقال النبي ﷺ: "إني لَأعلمُ كلمةً لو قالها لذهبَ عنه الغضبُ: أعوذُ بالله من الشيطان الرَّجيم" فقال الرجل: أمجنونٌ تَراني؟ فتلا رسولُ الله ﷺ: (وإمَّا يَنزَغنَّكَ من الشيطانِ نَزْغٌ فَاستَعِذْ بالله من الشيطانِ الرَّجِيمِ (1)) (2).
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3649 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3649 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی، ان میں سے ایک کا غصہ بہت بڑھ گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا، (وہ کلمہ یہ ہے): «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے“۔ اس شخص نے (غصے میں) کہا: کیا تم مجھے مجنون سمجھتے ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾ ”اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ ابھارے تو اللہ کی پناہ مانگو۔“ [سورة فصلت: 36]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق الخَطْمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا ابن فُضيل، حدثنا عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنه كان يَسجُد بآخرِ الآيتين من (حم) السجدة، وكان أبو عبد الرحمن - يعني: ابن مسعود - يَسجُد بالأُولى منهما (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3650 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3650 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سورت حم السجدہ کی آخری دو آیات پر سجدہ کیا کرتے تھے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں سے پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔