المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
عَمَلُ دَفْعِ الْغَضَبِ عَنِ الْغَضْبَانِ باب: غصے والے کے غصے کو دور کرنے کا عمل
حدیث نمبر: 3691
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق الخَطْمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا ابن فُضيل، حدثنا عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنه كان يَسجُد بآخرِ الآيتين من (حم) السجدة، وكان أبو عبد الرحمن - يعني: ابن مسعود - يَسجُد بالأُولى منهما (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3650 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سورت حم السجدہ کی آخری دو آیات پر سجدہ کیا کرتے تھے، جبکہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں سے پہلی آیت پر سجدہ کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات إلّا أنَّ عطاء بن السائب كان قد اختلط ورواية محمد بن فضيل عنه بعد اختلاطه.
درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں، سوائے اس کے کہ "عطاء بن السائب" اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور "محمد بن فضیل" کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 326 عن الحاكم محمد بن عبد الله، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (2/ 326) نے حاکم محمد بن عبد اللہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کے راوی ثقہ ہیں، سوائے اس کے کہ "عطاء بن السائب" اختلاط کا شکار ہو گئے تھے اور "محمد بن فضیل" کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 326 عن الحاكم محمد بن عبد الله، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (2/ 326) نے حاکم محمد بن عبد اللہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3691 سے ماخوذ ہے۔