کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قیامت کے دن انسان کے اعضاء میں سب سے پہلے ران اور ہتھیلی کلام کریں گے
أخبرني أبو بكر محمد بن إبراهيم البزَّازُ ببغداد، حدثنا محمد بن مَسلَمة (2)، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا سعيد بن إياس، عن حَكِيم بن معاوية بن حَيْدَة، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال: "يَجيئُون يومَ القيامةِ وعلى أفواهِهِم الفِدَامُ، وإنَّ أولَ ما يتكلَّمُ من الآدميِّ فَخِذُه وكفُّه" (3).
هذا حديث مشهورٌ ببَهْز بن حَكِيم عن أبيه، وقد تابعه الجُرَيري، فرواه عن حَكِيم بن معاوية وصحَّ به الحديثُ، ولم يُخرجاه. وقد رواه أبو قَزَعة الباهليُّ أيضًا عن حَكِيم بن معاوية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3645 - تابعه بهز بن حكيم عن أبيه صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حکیم بن معاویہ بن حیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں لائے جاؤ گے کہ تمہارے مونہوں پر فدام (کپڑے یا ڈاٹ) لگے ہوں گے، اور انسان کا جو عضو سب سے پہلے کلام کرے گا وہ اس کی ران اور اس کی ہتھیلی ہوگی۔“
یہ حدیث بہز بن حکیم کی اپنے والد سے روایت سے مشہور ہے، اور جریری نے بھی ان کی متابعت کی ہے اور حکیم بن معاویہ سے اسے روایت کیا ہے جس سے یہ حدیث صحیح ثابت ہوتی ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3686
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل حكيم بن معاوية، ومحمد بن مسلمة» [ترقيم الرساله 3686] [ترقيم الشركة 3666] [ترقيم العلميه 3645]
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحسن بن موسى الأشيَب، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، أخبرنا أبو قَزَعة الباهلي، عن حَكيم بن معاوية، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "تُحشَرون ها هنا - وأَومأَ بيده إلى الشام - مُشاةً ورُكْبانًا وعلى وجوهِكم، وتُعرَضون على الله وعلى أفواهِكم الفِدَامُ، وإنَّ أولَ ما يُعرِبُ عن أحدكم فَخِذُه"، وتلا رسولُ الله ﷺ: ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ﴾ [فصلت: 22] (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3646 - أبو قزعة سويد بن حجير ثقة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سب یہاں جمع کیے جاؤ گے - اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا - پیدل بھی، سوار بھی اور اپنے چہروں کے بل بھی، تم اللہ کے حضور پیش کیے جاؤ گے جبکہ تمہارے مونہوں پر فدام (مہریں یا رکاوٹیں) ہوں گی، اور تم میں سے جس عضو نے سب سے پہلے بیان کرنا ہے وہ اس کی ران ہوگی“، اور رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ﴾ ”اور تم اس بات سے پردہ نہیں کرتے تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں تمہارے خلاف گواہی دیں گی۔“ [سورة فصلت: 22]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3687
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن كسابقه
تخریج حدیث «إسناده حسن كسابقه، أبو قزعة: هو سُوَيد بن حُجير. وأخرجه بأطول ممّا هنا أحمد (33/ 20022) عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد» [ترقيم الرساله 3687] [ترقيم الشركة 3667] [ترقيم العلميه 3646]
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب قالا: حدثنا محمد بن كَثير العَبْدي، حدثنا سفيان، عن سَلَمة بن كُهيل، عن مالك بن حُصَين بن عُقْبة الفَزَاري، عن أبيه، عن علي بن أبي طالب؛ سُئِلَ عن قول الله ﷿: ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ﴾ [فصلت: 29]، قال: ابنُ آدمَ الذي قَتَل أخاه، وإبليسُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3647 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿رَبَّنَا أَرِنَا اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔“ [سورة فصلت: 29] کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”ان سے مراد آدم کا وہ بیٹا (قابیل) ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا، اور ابلیس ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3688
درجۂ حدیث محدثین: خبر حسنٌ إن شاء الله
تخریج حدیث «خبر حسنٌ إن شاء الله، وقد سلف برقم (3254) من طريق مصعب بن المقدام عن سفيان الثوري. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى بن معاذ العنبري.» [ترقيم الرساله 3688] [ترقيم الشركة 3668] [ترقيم العلميه 3647]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا عبد الله بن إدريس، أخبرنا أبو إسحاق الشَّيباني، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن الأسود بن هلال، عن أبي بكر الصِّدِّيق قال: ما تقولون في قوله ﷿: ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ [فصلت: 30]، وقوله: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [الأنعام: 82]؟ فقالوا: ﴿الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ فلم يَلتفِتوا، ﴿وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾: بخطيئةٍ، فقال أبو بكر: حَمَلتُموها على غير وجهِ المَحمَل (2): ﴿ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ ولم يَلتفِتوا إلى إلهٍ غيرِه ﴿وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ أي: بشِرْك (3).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3648 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسود بن ہلال سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (صحابہ سے) پوچھا: تم اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کے بارے میں کیا کہتے ہو ﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ [سورة فصلت: 30] اور ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ [سورة الأنعام: 82]؟ انہوں نے جواب دیا: ﴿الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور پھر کسی (گناہ) کی طرف التفات نہیں کیا، اور ﴿وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ سے مراد ہے کہ اپنے ایمان کو کسی خطا کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ اس پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے ان کا وہ مطلب نہیں سمجھا جو مقصود ہے؛ ﴿ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾ کا مطلب ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کی طرف التفات نہیں کیا اور ﴿وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ﴾ کا مطلب ہے کہ اپنے ایمان میں شرک کی آمیزش نہیں کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3689
درجۂ حدیث محدثین: خبر حسنٌ
تخریج حدیث «خبر حسنٌ، أحمد بن عبد الجبار حسن الحديث، وقد توبع، ومن فوقه ثقات إلّا أنَّ هذا الإسناد منقطع بين الأسود بن هلال وأبي بكر، فإنَّ الأسود وإن كان قد أدرك الجاهلية إلّا أنه لم يهاجر إلّا في زمان عمر فلم ير أبا بكر، وقد توبع في هذا الخبر عن أبي بكر.» [ترقيم الرساله 3689] [ترقيم الشركة 3669] [ترقيم العلميه 3648]