المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
عَمَلُ دَفْعِ الْغَضَبِ عَنِ الْغَضْبَانِ باب: غصے والے کے غصے کو دور کرنے کا عمل
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو أسامة، حدثنا الأعمش، عن عَدِيِّ بن ثابت، عن سليمان بن صُرَدٍ قال: استَبَّ رجلان قُربَ النبي ﷺ، فاشتدَّ غضبُ أحدهما، فقال النبي ﷺ: "إني لَأعلمُ كلمةً لو قالها لذهبَ عنه الغضبُ: أعوذُ بالله من الشيطان الرَّجيم" فقال الرجل: أمجنونٌ تَراني؟ فتلا رسولُ الله ﷺ: (وإمَّا يَنزَغنَّكَ من الشيطانِ نَزْغٌ فَاستَعِذْ بالله من الشيطانِ الرَّجِيمِ (1)) (2).
هذا حديث صحيح الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3649 - صحيحسیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی، ان میں سے ایک کا غصہ بہت بڑھ گیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر یہ اسے کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا، (وہ کلمہ یہ ہے): «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے“۔ اس شخص نے (غصے میں) کہا: کیا تم مجھے مجنون سمجھتے ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ﴾ ”اور اگر شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ ابھارے تو اللہ کی پناہ مانگو۔“ [سورة فصلت: 36]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: "المستدرک" میں ایسا ہی ہے اور بیہقی نے "شعب الایمان" (7931) میں ایسے ہی نقل کیا ہے، لیکن یہ "ذہول" (بھول) ہے، کیونکہ تلاوت سورہ فصلت کی آیت 36 میں یوں ہے: ﴿وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾۔
(2) إسناده صحيح. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، والأعمش: هو سليمان بن مِهران.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ، اور اعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں۔
وأخرجه مسلم (2610) (110) عن نصر بن علي الجهضمي، عن أبي أسامة، بهذا الإسناد. ولم يذكر فيه التلاوة. وأخرجه كذلك أحمد (45/ 27205)، والبخاري (3282) و (6048) و (6115)، ومسلم (2610)، وأبو داود (4781)، والنسائي (10152) و (10153)، وابن حبان (5692) من طرق عن الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2610-110) نے نصر بن علی جہضمی سے، انہوں نے ابو اسامہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے (تلاوت کے ذکر کے بغیر)۔ نیز اسے احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، نسائی اور ابن حبان نے اعمش کے واسطے سے کئی طرق سے تخریج کیا ہے۔