حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمّاد بن زيد، حدثني أبو لُبَابةَ قال: سمعت عائشة تقول: كان رسول الله ﷺ يصوم حتى نقولَ: ما يريد أن يُفطِرَ، ويفطرُ حتى نقولَ: ما يريدُ أن يصومَ، وكان يقرأُ في كلِّ ليلةٍ سورةَ بني إسرائيلَ والزُّمَر (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3625 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3625 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ (نفل) روزے اس کثرت سے رکھتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ ﷺ روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور جب روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے، اور آپ ﷺ ہر رات سورت بنی اسرائیل اور سورت الزمر کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، حدثنا أبو أسامة وعَبْدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الله بن الزُّبَير، عن الزُّبَير بن العوَّام قال: لما نَزَلَت هذه الآية على رسول الله ﷺ: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30، 31]، قلت: أيُكرَّرُ علينا ما كان بيننا في الدنيا مع خَواصِّ الذُّنوب؟ قال: "نعم، ليُكرَّرَنَّ ذلك عليكم حتَّى يُؤدّى إلى كلِّ ذي حقٍّ حقُّه"، قال الزُّبير: فوالله إن الأمر لشديدٌ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3626 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3626 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ ”بے شک آپ کو بھی وفات پانا ہے اور انہیں بھی وفات پانا ہے، پھر تم سب قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔“ [سورة الزمر: 30-31] تو میں نے عرض کیا: کیا دنیا میں ہمارے درمیان جو معاملات ہوئے ہیں وہ خاص گناہوں کے ساتھ دوبارہ پیش کیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ ضرور تمہارے سامنے دہرائے جائیں گے یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کر دیا جائے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! پھر تو معاملہ بہت سخت ہے۔
أخبرَناه أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزِير، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني محمد بن عمرو اللَّيثي، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الله بن الزُّبير قال: لما نَزَلَت هذه الآية؛ فذكر الحديث، ولم يذكر في إسناده الزُّبيرَ (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3627 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3627 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی... پھر راوی نے سابقہ حدیث ہی ذکر کی لیکن اس کی سند میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ (اپنے والد) کا ذکر نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا الحسن بن الرَّبيع، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثني محمد بن إسحاق قال: وأخبرني نافع، عن عبد الله بن عمر، قال: كنا نقول ما لمُفتَتِنٍ توبةٌ، وما اللهُ بقابلٍ منه شيئًا، فلمّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ أُنزِلَ فيهم: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ [الزمر: 53]، والآياتُ التي بعدها. قال عمر: فكتبتُها، فجلستُ على بعيري ثم طُفْتُ المدينةَ (1)، ثم أقامَ رسولُ الله ﷺ بمكة ينتظرُ أن يَأْذَنَ اللهُ له في الهجرة وأصحابِه من المهاجرين، وقد أقام أبو بكر ينتظرُ أن يُؤذَنَ لرسول الله ﷺ فيخرجَ معه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم کہا کرتے تھے کہ آزمائش میں پڑ جانے والے کی توبہ نہیں ہے اور اللہ اس سے کچھ بھی قبول نہیں کرے گا، لیکن جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [سورة الزمر: 53] اور اس کے بعد والی آیات بھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان آیات کو لکھا، اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور مدینہ میں گھوم کر (لوگوں کو سنایا)، پھر رسول اللہ ﷺ مکہ میں ٹھہرے رہے اس انتظار میں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اور آپ کے مہاجر صحابہ کو ہجرت کی اجازت عطا فرمائے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو اجازت ملے تو وہ آپ ﷺ کے ساتھ نکلیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔