المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الزُّمَرِ باب: سورۂ الزمر کی تفسیر
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، حدثنا أبو أسامة وعَبْدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عبد الله بن الزُّبَير، عن الزُّبَير بن العوَّام قال: لما نَزَلَت هذه الآية على رسول الله ﷺ: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30، 31]، قلت: أيُكرَّرُ علينا ما كان بيننا في الدنيا مع خَواصِّ الذُّنوب؟ قال: "نعم، ليُكرَّرَنَّ ذلك عليكم حتَّى يُؤدّى إلى كلِّ ذي حقٍّ حقُّه"، قال الزُّبير: فوالله إن الأمر لشديدٌ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3626 - على شرط مسلمسیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ ”بے شک آپ کو بھی وفات پانا ہے اور انہیں بھی وفات پانا ہے، پھر تم سب قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔“ [سورة الزمر: 30-31] تو میں نے عرض کیا: کیا دنیا میں ہمارے درمیان جو معاملات ہوئے ہیں وہ خاص گناہوں کے ساتھ دوبارہ پیش کیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ ضرور تمہارے سامنے دہرائے جائیں گے یہاں تک کہ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کر دیا جائے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! پھر تو معاملہ بہت سخت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: "محمد بن عمرو بن علقمہ" کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: اسحاق سے مراد ابن راہویہ، اور ابو اسامہ سے مراد حماد بن اسامہ ہیں۔ یہ (3018) پر گزر چکی ہے۔