حدیث نمبر: 3670
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارِمي، حدثنا الحسن بن الرَّبيع، حدثنا عبد الله بن إدريس، حدثني محمد بن إسحاق قال: وأخبرني نافع، عن عبد الله بن عمر، قال: كنا نقول ما لمُفتَتِنٍ توبةٌ، وما اللهُ بقابلٍ منه شيئًا، فلمّا قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ أُنزِلَ فيهم: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ [الزمر: 53]، والآياتُ التي بعدها. قال عمر: فكتبتُها، فجلستُ على بعيري ثم طُفْتُ المدينةَ (1)، ثم أقامَ رسولُ الله ﷺ بمكة ينتظرُ أن يَأْذَنَ اللهُ له في الهجرة وأصحابِه من المهاجرين، وقد أقام أبو بكر ينتظرُ أن يُؤذَنَ لرسول الله ﷺ فيخرجَ معه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم کہا کرتے تھے کہ آزمائش میں پڑ جانے والے کی توبہ نہیں ہے اور اللہ اس سے کچھ بھی قبول نہیں کرے گا، لیکن جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾ ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، بے شک وہی بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [سورة الزمر: 53] اور اس کے بعد والی آیات بھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان آیات کو لکھا، اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور مدینہ میں گھوم کر (لوگوں کو سنایا)، پھر رسول اللہ ﷺ مکہ میں ٹھہرے رہے اس انتظار میں کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اور آپ کے مہاجر صحابہ کو ہجرت کی اجازت عطا فرمائے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس انتظار میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو اجازت ملے تو وہ آپ ﷺ کے ساتھ نکلیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3670
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق.» [ترقيم الرساله 3670] [ترقيم الشركة 3649]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا وقع عند المصنف، وهو خطأ والصواب كما في سائر الروايات عن ابن إسحاق: أنَّ عمر كتبها وبعث بها إلى هشام بن العاص وهو في مكة، وكان ممَّن تخلَّف عن الهجرة إلى المدينة، قال هشام: فلما قَدِمَت عليَّ خرجتُ بها إلى ذي طُوى فجعلتُ أصعِّد بها وأصوِّب لأفهمها، فقلت: اللهم فهِّمنيها، فعرفتُ إنما نزلت فينا كما كنَّا نقول في أنفسنا ويقال فينا، فرجعت فجلست على بعيري، فلحقت برسول الله ﷺ.
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے ہاں ایسا ہی واقع ہوا ہے، جو "غلطی" ہے۔ درست (صواب) وہ ہے جو ابن اسحاق سے باقی تمام روایات میں ہے: کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لکھا اور ہشام بن العاص کو بھیجا جو مکہ میں تھے اور ہجرت سے پیچھے رہ گئے تھے۔ ہشام کہتے ہیں: جب وہ مجھے ملی تو میں ذی طویٰ کی طرف نکلا اور اسے الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا (غور کرنے لگا) تاکہ سمجھ سکوں، میں نے کہا: اے اللہ! مجھے یہ سمجھا دے۔ تو میں پہچان گیا کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے... (پھر میں ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ سے جا ملا)۔
(2) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق.
درجۂ حدیث: "ابن اسحاق" کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (6736) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد - مختصرًا دون قول عمر: فكتبتها، وما بعده.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الایمان" (6736) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ مختصراً تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الضياء في "المختارة" (1/ 213) من طريق إسحاق بن إبراهيم بن جبلة، عن الحسن بن الربيع، به. ولم يسق لفظه.
حوالہ / مصدر: اسے ضیاء نے "المختارۃ" (1/ 213) میں اسحاق بن ابراہیم بن جبلہ کے طریق سے حسن بن ربیع سے تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه البزار (155)، والطبري في "تفسيره" 24/ 15، وابن المنذر في "الأوسط" (9670)، والطبراني في "الكبير" (22/ 462)، والبيهقي في "السنن" 9/ 13، وفي "الدلائل" 2/ 461 - 462، والضياء (212) من طرق عن ابن إسحاق، به - وبعضهم يزيد فيه على بعض.
حوالہ / مصدر: اسے بزار (155)، طبری (24/ 15)، ابن المنذر (9670)، طبرانی (22/ 462)، بیہقی (السنن 9/ 13، الدلائل 2/ 461-462) اور ضیاء (212) نے ابن اسحاق کے واسطے سے کئی طرق سے تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3670 سے ماخوذ ہے۔