المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مَنْ دَعَا رَجُلًا إِلَى شَيْءٍ كَانَ مَعَهُ مَوْقُوفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: جس نے کسی کو کسی کام کی طرف بلایا وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ کھڑا ہوگا
حدیث نمبر: 3652
حدثنا عمر بن جعفر البَصْري، حدثنا الحسن بن أحمد التُّستَري، حدثنا عبيد الله بن معاذ العَنبَري، حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن أبيه، عن أنس بن مالك قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "ما من داعٍ دعا رجلًا إلى شيء، إلَّا كان معه موقوفًا معهم يومَ القيامة، لازمًا له يُقادُ معه"، ثم قرأ هذه الآية: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [الصافات: 24] (1). هكذا حدَّث به الحسنُ بن أحمد التُّستَري، ولو جاز لنا قَبولُه منه لكنَّا نُصحِّحُه على شرط الشيخين، ولكنا نقول: إنَّ صوابه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی کسی کو کسی کام کی دعوت دیتا ہے، وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی لایا جائے گا“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”اور انہیں ٹھہراؤ، یقیناً ان سے سوال کیا جانا ہے۔“ [سورة الصافات: 24] حسن بن احمد تستری نے اسے اسی طرح بیان کیا ہے، اگر ہمارے لیے اسے قبول کرنا جائز ہوتا تو ہم اسے شیخین کی شرط پر صحیح قرار دیتے، لیکن ہم کہتے ہیں کہ اس کا درست متن اگلی حدیث والا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف، الحسن بن أحمد التستري قال فيه الدارقطني في "غرائب مالك" كما في ترجمته من "لسان الميزان": ضعيف جدًّا كان يُتَّهم بوضع الحديث. وانظر ما بعده.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حسن بن احمد تستری کے بارے میں دارقطنی نے کہا: "سخت ضعیف" ہے، اس پر حدیث گھڑنے (وضع الحدیث) کا الزام تھا۔ اگلی حدیث بھی دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: حسن بن احمد تستری کے بارے میں دارقطنی نے کہا: "سخت ضعیف" ہے، اس پر حدیث گھڑنے (وضع الحدیث) کا الزام تھا۔ اگلی حدیث بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3652 سے ماخوذ ہے۔