المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
حِكَايَةُ صَاحِبِ يَاسِينَ باب: یٰس والے شخص (صاحبِ یٰس) کا واقعہ
حدیث نمبر: 3647
حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد الرازي، حدثنا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم، حدثنا أبو حفص عامر بن سعيد، حدثنا القاسم بن مالك المُزَني، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن سيَّارٍ أبي الحَكَم، عن أبي وائل، عن عبد الله قال: لما قال صاحبُ ياسين: ﴿يَاقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ﴾ [يس: 20] قال: خَنَقُوه ليموتَ، فالْتفتَ إلى الأنبياء فقال: ﴿إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ﴾ [يس: 25] أي: فاشهَدُوا لي (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3605 - ابن إسحاق ضعيفحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب صاحبِ یٰسین (حبیب نجار) نے کہا: ﴿يَاقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ﴾ ”اے میری قوم! رسولوں کی پیروی کرو“ [سورة يس: 20] تو (قوم کے لوگوں نے) ان کا گلا گھونٹ دیا تاکہ وہ مر جائیں، اس وقت انہوں نے انبیاء کی طرف التفات کیا اور کہا: ﴿إِنِّي آمَنْتُ بِرَبِّكُمْ فَاسْمَعُونِ﴾ ”بے شک میں تمہارے رب پر ایمان لایا، پس تم میری بات سنو“ [سورة يس: 25] یعنی: تم میرے اس ایمان پر گواہ بن جاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن إسحاق - وهو أبو شيبة الواسطي - وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه". أبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وعبد الله: هو ابن مسعود.
درجۂ حدیث: "عبد الرحمن بن اسحاق" (ابو شیبہ واسطی) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے، ذہبی نے "التلخیص" میں اسے علت بنایا ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو وائل سے مراد شقیق بن سلمہ، اور عبد اللہ سے مراد ابن مسعود ہیں۔
درجۂ حدیث: "عبد الرحمن بن اسحاق" (ابو شیبہ واسطی) کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے، ذہبی نے "التلخیص" میں اسے علت بنایا ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو وائل سے مراد شقیق بن سلمہ، اور عبد اللہ سے مراد ابن مسعود ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3647 سے ماخوذ ہے۔