کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۂ یٰس کی تفسیر: سورۂ یٰس کا عمل دل کی سختی دور کرنے کے لیے
حدثنا علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحكم الحِبَري، حدثنا الحسن بن الحسين العُرَني، حدثنا عمرو بن ثابت بن أبي المِقدام، عن محمد بن مروان، عن أبي جعفر محمد بن علي قال: مَن وَجَدَ في قلبِه قسوةً فليَكْتُبْ ﴿يس (1) وَالْقُرْآنِ﴾ في جامٍ بزعفرانٍ ثم يَشرَبْه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
امام ابوجعفر محمد بن علی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جس شخص کو اپنے دل میں قساوت اور سختی محسوس ہو تو اسے چاہیے کہ وہ ایک پیالے میں زعفران سے ﴿يس (1) وَالْقُرْآنِ﴾ لکھے اور پھر (اس میں پانی ڈال کر) اسے پی لے۔“
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعمَري، حدثني جعفر بن محمدٍ ابنُ ابنةِ إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثني جدِّي، حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبي سفيان طَريف بن شِهاب (1)، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: كان بنو سَلِمةَ في ناحيةٍ من المدينة، فأرادوا أن يَنتقلوا إلى قُرْب المسجد، فأنزل الله ﷿: ﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ﴾ [يس: 12]، فدعاهم رسولُ الله ﷺ فقال: "إنه تُكتَبُ آثَارُكم"، ثم قرأَ عليهم الآيةَ فتَرَكوا (2).
هذا حديث صحيح عجيبٌ من حديث الثَّوْري، وقد أخرج مسلمٌ بعضَ هذا المعنى من حديث حُمَيد عن أنس (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3604 - تفرد به إسحاق الأزرق عنه صحيح
هذا حديث صحيح عجيبٌ من حديث الثَّوْري، وقد أخرج مسلمٌ بعضَ هذا المعنى من حديث حُمَيد عن أنس (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3604 - تفرد به إسحاق الأزرق عنه صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو سلمہ مدینہ منورہ کے ایک کنارے پر رہتے تھے، انہوں نے مسجد (نبوی) کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ﴾ [سورة يس: 12] ”بے شک ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو ان کے نشانات (پیچھے رہ گئے) ہم انہیں لکھ لیتے ہیں۔“ پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا: ”تمہارے (مسجد کی طرف آنے والے) قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں“، پھر آپ ﷺ نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی تو انہوں نے (منتقلی کا ارادہ) ترک کر دیا۔
یہ امام ثوری کی روایت سے ایک صحیح اور عجیب حدیث ہے، اور امام مسلم نے اس مفہوم کا کچھ حصہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔
یہ امام ثوری کی روایت سے ایک صحیح اور عجیب حدیث ہے، اور امام مسلم نے اس مفہوم کا کچھ حصہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔