حدثنا أبو الحسن علي بن الفضل السامَرِّيُّ ببغداد، حدثنا أبو علي الحَسَن بن عَرَفة العَبْدي، حدثنا عبد الرحمن بن محمد المُحارِبي، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "أعمارُ أمَّتي ما بين الستينَ إلى السبعين، وأقلُّهم مَن يَجُوزُ ذلك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3598 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3598 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت کے لوگوں کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہیں، اور ان میں بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس عمر سے تجاوز کر پاتے ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو بَكْرة بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا مُطرِّف بن مازن، حدثنا مَعمَر بن راشد، سمعتُ محمد بن عبد الرحمن الغِفَاري يقول: سمعت أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لقد أَعذَرَ اللهُ إلى عبدٍ عَمَّره ستينَ أو سبعينَ سنةً، لقد أَعذرَ اللهُ في عُمرِه إليه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے اس بندے کا عذر ختم کر دیا جسے اس نے ساٹھ یا ستر سال کی عمر عطا فرمائی، یقیناً اللہ نے اس کی زندگی میں اس کی طرف سے عذر کی گنجائش نہیں چھوڑی۔“
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن علي (3) الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن شيخ من غِفَار، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "لقد أَعذَرَ اللهُ إلى عبدٍ أحْياهُ حتَّى بَلَغَ ستينَ أو سبعينَ سنةً، لقد أَعذَرَ اللهُ إليه" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3600 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس بندے کا عذر تمام کر دیا جسے اس نے زندہ رکھا یہاں تک کہ وہ ساٹھ یا ستر سال کی عمر کو پہنچ گیا، بے شک اللہ نے اس کے حق میں عذر ختم کر دیا۔“
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق من أصلِ كتابه، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حمَّاد بن زيد، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن عُمِّرَ من أمَّتي سبعين سنةً، فقد أَعذَرَ اللهُ إليه في العُمر" (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3601 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3601 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے جس شخص کو ستر سال کی عمر دی گئی، اللہ نے اس کی عمر کے معاملے میں اس کا عذر ختم کر دیا (یعنی اسے توبہ و اصلاح کے لیے کافی مہلت دے دی)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، قال: قرأَ ابنُ مسعود: ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ﴾ الآية [فاطر: 45]، قال: كادَ الجُعَلُ يُعذَّب في جُحْرِه بذَنْب ابنِ آدم (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [36 - ومن سورة (يس)] قد ذكرتُ فضائلَ السُّوَر في كتاب فضائل القرآن، وأنا ذاكرٌ في هذا الموضع حكايةً يَنتفعُ بها مَن استعملها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3602 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3602 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ﴾ [سورة فاطر: 45] ”اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑنے لگے تو زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے، لیکن وہ انہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے۔“ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: ”قریب ہے کہ گبریلا («جُعَل») (ایک قسم کا کیڑا) بھی اپنے سوراخ میں ابنِ آدم کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔