کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ان لوگوں پر اللہ کی نعمتیں جو راتوں کو بستروں سے جدا رہتے ہیں
حدثنا عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا عبد الله بن سُوَيد بن حيَّان، حدثني أبو صَخْر، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد قال: بَيْنا نحن عندَ رسول الله ﷺ وهو يَصِفُ الجنةَ حتى انتهى، ثم قال: "فيها ما لا عينٌ رأَتْ، ولا أُذنٌ سَمِعَت، ولا خَطَرَ على قلبِ بَشَر"، ثم قرأ ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ إلى آخر الآية [السجدة: 16]. قال أبو صخر: فذكرتُه (2) للقُرَظي فقال: إنهم أَخفَوْا لله عملًا وأخفى لهم ثوابًا، فقَدِمُوا على الله فقَرَّت تلك الأعينُ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3549 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے اور آپ ﷺ جنت کی صفات بیان فرما رہے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی بات مکمل فرمائی، پھر فرمایا: ”اس (جنت) میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔“ [سورة السجدة: 16] ابوصخر کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر امام قرظی سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے اللہ کی خاطر اپنے عمل کو چھپایا تو اللہ نے بھی ان کے لیے ان کا اجر چھپا کر رکھا، پس جب وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3591
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن سويد بن حيان وأبي صخر» [ترقيم الرساله 3591] [ترقيم الشركة 3570] [ترقيم العلميه 3549]
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو الأحوَص، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة قال: قال عبد الله: إنه مكتوبٌ في التَّوراة: لقد أعدَّ الله للَّذين تتجافَى جنوبُهم عن المضاجع ما لم تَرَ عينٌ، ولم تَسمَعْ أُذنٌ، ولم يَخطُرْ على قلب بشرٍ، ولا يعلمُه مَلَكٌ مقرَّبٌ ولا نبيٌّ مُرسَلٌ. قال: ونحن نقرؤُها: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِى لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [السجدة: 17] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3550 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: تورات میں یہ درج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے جن کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں (یعنی تہجد گزاروں کے لیے) وہ کچھ تیار کر رکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا، اور نہ اسے کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے اور نہ کوئی نبی مرسل۔ انہوں نے کہا: اور ہم اسے (قرآن میں) یوں پڑھتے ہیں ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ [سورة السجدة: 17] ”پس کوئی نفس نہیں جانتا جو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے چھپا کر رکھا گیا ہے، یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو وہ کرتے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3592
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات إلّا أنَّ أبا عبيدة» [ترقيم الرساله 3592] [ترقيم الشركة 3571] [ترقيم العلميه 3550]
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن أبي الضُّحى، عن مسروق، عن عبد الله، ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [السجدة: 21]، قال: يومُ بدرٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3551 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ﴾ [سورة السجدة: 21] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: (اس سے مراد) جنگِ بدر کا دن ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3593
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،سفيان: هو الثوري، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو الضحى: هو مسلم بن صبيح.» [ترقيم الرساله 3593] [ترقيم الشركة 3572] [ترقيم العلميه 3551]