المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ذِكْرُ مُعَظَّمَاتِ الْأَعْمَالِ الصَّالِحَاتِ وَجَزَائِهَا مِنَ اللَّهِ تَعَالَى باب: نیک اعمال کی عظمت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اجر کا بیان
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر الأَزْدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري - واللفظُ له - حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت والحَكَم بن عُتَيبة، عن ميمون بن أبي شَبِيب، عن معاذ بن جَبَل قال: بينما نحنُ مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوكَ وقد أصابنا الحرُّ، فتفرَّقَ القومُ حتى نَظَرتُ فإذا رسولُ الله ﷺ أقربُهم مني، قال: فدَنَوتُ منه فقلت: يا رسول الله، أنبِئْني بعمل يُدخِلُني الجنةَ ويباعدُني من النار، قال: "لقد سألتَ عن عظيمٍ، وإنه لَيسيرٌ على مَن يَسَّره اللهُ عليه: تعبدُ اللهَ لا تُشرِكُ به شيئًا، وتقيمُ الصلاةَ المكتوبة، وتؤتي الزكاةَ المفروضة، وتصومُ رمضانَ" قال: "وإن شئتَ أنبأتُك بأبواب الجنَّة" قلت: أجل يا رسول الله، قال: "الصومُ جُنَّةٌ، والصدقةُ تكفِّرُ الخطيئةَ، وقيامُ الرجل في جَوْف الليل يبتغي وجهَ الله" قال: ثم قرأ هذه الآية: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ [السجدة: 16]، قال: "وإن شئتَ أنبأتُكَ برأسِ الأمر وعمودِه وذِرْوةِ سَنَامِه" قال: قلت: أجل يا رسول الله، قال: "أمَّا رأسُ الأمر فالإسلامُ، وأما عمودُه فالصلاةُ، وأما ذِروةُ سنامِه فالجهادُ في سبيل الله، وإن شئتَ أنبأتُك بأَمْلكِ ذلك كلِّه" قال: فسَكَت، فإذا راكبان يُوضِعانِ قِبَلَنا، فخَشِيتُ أن يَشغَلاه عن حاجتي، قال: فقلت: ما هو يا رسول الله؟ قال: فأهوَى بإصبعه إلى فِيهِ، قال: فقلت: يا رسول الله، وإنا لنُؤَاخَذُ بما نقول بألسنتِنا، قال: "ثَكِلَتكَ أمُّك ابنَ جبلٍ، هل يَكُبَّ الناسَ على مَناخِرِهم في جهنَّمَ إلَّا حصائدُ ألسنتِهم" (1). هذا لفظ حديث جَرِير، ولم يذكر أبو إسحاق الفَزَاري في حديثه الحكمَ بن عُتيبة.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3548 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے اور ہمیں سخت گرمی کا سامنا تھا، لوگ (سائے کی تلاش میں) ادھر ادھر منتشر ہو گئے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہیں، میں آپ ﷺ کے قریب ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور آگ سے دور کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی چیز کے بارے میں سوال کیا ہے، مگر جس پر اللہ آسان کر دے اس کے لیے یہ بہت آسان ہے: تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نمازیں قائم کرو، فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو،“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں جنت کے دروازوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو (ایسے) مٹا دیتا ہے (جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے) اور بندے کا رات کی تاریکی میں اللہ کی رضا کی خاطر قیام کرنا،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾ ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“ [سورة السجدة: 16] پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس دین کی جڑ، اس کے ستون اور اس کی بلندی کے متعلق نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”دین کی جڑ اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی اللہ کی راہ میں جہاد ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں ان تمام چیزوں کی بنیاد (جس پر ان سب کا دارومدار ہے) کے متعلق نہ بتاؤں؟“ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ خاموش ہو گئے، اس دوران دو سوار ہماری طرف تیزی سے آ رہے تھے، مجھے ڈر ہوا کہ وہ آپ ﷺ کو میری بات سے مصروف نہ کر دیں، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے اپنی انگلی مبارک سے اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنی زبانوں سے جو کچھ کہتے ہیں اس پر بھی پکڑے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن جبل! تمہاری ماں تمہیں گم کرے، لوگوں کو ان کے نتھنوں کے بل جہنم میں ان کی زبانوں کی کٹائی (بدکلامی) کے سوا اور کون سی چیز اوندھے منہ گرائے گی؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حدیث "صحیح" ہے۔ اس کا ایک حصہ پہلے نمبر (2439) پر گزر چکا ہے، وہاں اس کی مکمل تخریج دیکھیں۔
وأخرج منه قوله: "الصوم جُنَّة" النسائي في "المجتبى" (2225) من طريق أبي عوانة، عن سليمان الأعمش، به.
حوالہ / مصدر: اور اس میں سے یہ قول "روزہ ڈھال ہے" نسائی نے "المجتبیٰ" (2225) میں ابو عوانہ کے طریق سے سلیمان اعمش سے تخریج کیا ہے۔
ويشهد له حديث عبادة بن الصامت الآتي عند المصنف برقم (7967)، وإسناده صحيح.
متابعات و شواہد: اور اس کی تائید (شاہد) عبادہ بن صامت کی حدیث کرتی ہے جو مصنف کے ہاں آگے نمبر (7967) پر آئے گی، اور اس کی سند صحیح ہے۔