کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کسی بندے کو صبر سے بہتر اور زیادہ وسیع کوئی نعمت نہیں دی گئی
حدثنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق بن أحمد بن مِهْران الخرَّاز، حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي (2) قال: سمعتُ مالكَ بن أنس، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا﴾ [السجدة: 24]، فقال: حدثني الزُّهْري، أنَّ عطاء بن يزيد حدَّثه عن أبي هريرة، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول: "ما رُزِقَ عبدٌ خيرًا له ولا أوسَعَ من الصَّبر" (3). قد اتَّفق الشيخان على إخراج هذه اللفظة لمالك في آخر حديثه بهذا الإسناد: أنَّ ناسًا من الأنصار سأَلوا رسولَ الله ﷺ، الحديثَ بطوله. وفي آخره هذه اللفظة، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة التي عند إسحاق بن سليمان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3552 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3552 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کسی بندے کو صبر سے بہتر اور اس سے زیادہ وسعت والی کوئی عطا نہیں دی گئی۔“
شیخین نے اس حدیث کے الفاظ کو امام مالک سے (اپنی کتابوں میں) اس سند کے ساتھ ذکر کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، اور اس طویل حدیث کے آخر میں یہ کلمات موجود ہیں، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا جو اسحاق بن سلیمان کے ہاں ہے۔
شیخین نے اس حدیث کے الفاظ کو امام مالک سے (اپنی کتابوں میں) اس سند کے ساتھ ذکر کرنے پر اتفاق کیا ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، اور اس طویل حدیث کے آخر میں یہ کلمات موجود ہیں، لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا جو اسحاق بن سلیمان کے ہاں ہے۔
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدّي، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس في قول الله ﷿: ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْفَتْحُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (28) قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ﴾ [السجدة: 28، 29]، قال: يومَ بدرٍ فُتِحَ للنبي ﷺ فلم يَنفَعِ الذين كفروا إيمانُهم بعد الموت (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [33 - ومن تفسير سورة الأحزاب]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3553 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [33 - ومن تفسير سورة الأحزاب]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3553 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْفَتْحُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (28) قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنْظَرُونَ﴾ [سورة السجدة: 28-29] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جنگِ بدر کے دن نبی کریم ﷺ کو فتح عطا کی گئی، پس اس دن موت کے بعد کافروں کو ان کا ایمان لانا کوئی نفع نہ دے سکا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔