حدیث نمبر: 3591
حدثنا عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا عبد الله بن سُوَيد بن حيَّان، حدثني أبو صَخْر، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد قال: بَيْنا نحن عندَ رسول الله ﷺ وهو يَصِفُ الجنةَ حتى انتهى، ثم قال: "فيها ما لا عينٌ رأَتْ، ولا أُذنٌ سَمِعَت، ولا خَطَرَ على قلبِ بَشَر"، ثم قرأ ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ إلى آخر الآية [السجدة: 16]. قال أبو صخر: فذكرتُه (2) للقُرَظي فقال: إنهم أَخفَوْا لله عملًا وأخفى لهم ثوابًا، فقَدِمُوا على الله فقَرَّت تلك الأعينُ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3549 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے اور آپ ﷺ جنت کی صفات بیان فرما رہے تھے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی بات مکمل فرمائی، پھر فرمایا: ”اس (جنت) میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جو نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ ”ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔“ [سورة السجدة: 16] ابوصخر کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر امام قرظی سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ان لوگوں نے اللہ کی خاطر اپنے عمل کو چھپایا تو اللہ نے بھی ان کے لیے ان کا اجر چھپا کر رکھا، پس جب وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3591
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن سويد بن حيان وأبي صخر» [ترقيم الرساله 3591] [ترقيم الشركة 3570] [ترقيم العلميه 3549]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (ز): فذكرت.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں لفظ "فذكرت" ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن سويد بن حيان وأبي صخر - وهو حميد بن زياد - وقد توبعا. أبو حازم: هو سلمة بن دينار.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند "عبد اللہ بن سوید بن حیان" اور "ابو صخر" (حمید بن زیاد) کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان دونوں کی متابعت کی گئی ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو حازم سے مراد سلمہ بن دینار ہیں۔
وأخرجه أحمد (37/ 22826)، ومسلم (2825) من طريق عبد الله بن وهب، عن أبي صخر، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (37/ 22826) اور مسلم (2825) نے عبد اللہ بن وہب کے طریق سے ابو صخر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ لہٰذا حاکم کا استدراک ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3591 سے ماخوذ ہے۔