حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن محمد بن سليمان، حدثنا عبد الوهاب بن الضَّحّاك، حدثنا شعيب بن إسحاق، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "لا تُنزِلُوهنَّ الغُرَفَ، ولا تُعلِّموهنَّ الكِتابةَ - يعني النساءَ - وعلِّموهنَّ المِغزَلَ وسورةَ النُّور" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3494 - بل موضوع
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3494 - بل موضوع
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کو بالائی منزل کے کمروں (جہاں سے وہ لوگوں کو دیکھ سکیں) میں نہ بٹھاؤ، اور نہ ہی انہیں لکھنا سکھاؤ، بلکہ انہیں چرخہ کاتنا اور سورہ النور سکھاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عَمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، عن سليمان التَّيْمي، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن عمرو بن العاص في قوله: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [النور: 3]، قال: كنَّ نساءٌ موارد بالمدينة، فكان الرجل المسلمُ يَزَّوَّجُ المرأةَ منهن لتُنفِقَ عليه، قال: فنُهُوا عن ذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3495 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3495 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے متعلق روایت ہے کہ مدینہ میں کچھ بدکار عورتیں تھیں جن کے ٹھکانے معلوم تھے، پس کچھ (نادار) مسلمان مرد ان عورتوں سے اس لیے نکاح کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ ان پر خرچ کریں، تو انہیں اس سے روک دیا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحافظ، أخبرنا عَبْدانُ الأهوازيّ، حدثنا عمرو بن محمدٍ الناقدُ، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن شُعْبة، عن جعفر بن إياس، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا﴾ [النور: 27]، قال: أخطأَ الكاتبُ (حتى تَستأذِنُوا) (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3496 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3496 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا﴾ [سورة النور: 27] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (یہاں اصل میں) کاتب سے چوک ہوئی ہے، (درست لفظ) ”حتیٰ کہ تم اجازت طلب کر لو“ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔