المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
مُمَانَعَةُ التَّعَطُّرِ لِلْمَرْأَةِ إِذَا تُرِيدُ الْمُرُورَ باب: عورت کا خوشبو لگا کر لوگوں کے درمیان سے گزرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 3539
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا ثابت بن عُمَارة قال: سمعت غُنَيم بن قيس يقول: سمعت أبا موسى الأشعَريَّ يقول: قال رسول الله ﷺ: "أَيُّما امرأةٍ استَعطَرَت فَمَرَّتْ على قوم لِيَجِدُوا رِيحَها، فهي زانيةٌ" (1).
هذا حديث أخرجه الصَّغَاني في التفسير عند قوله ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ [النور: 30]. وهو صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3497 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی عورت خوشبو لگا کر کسی گروہ کے پاس سے اس لیے گزرے کہ وہ اس کی مہک پا سکیں، تو وہ زانیہ ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ صغانی نے اس حدیث کو تفسیر میں اس آیت ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾ [سورة النور: 30] کے تحت ذکر کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل ثابت بن عمارة.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ثابت بن عمارہ کی وجہ سے "قوی" ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19747) عن روح بن عبادة - وقرن به عبد الواحد الحدّاد - بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (19578) و (19711)، وأبو داود (4173)، والترمذي (2786)، والنسائي (9361)، وابن حبان (4424) من طرق عن ثابت بن عمارة، به. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (32/ 19747) نے روح بن عبادہ سے، اور احمد، ابو داود (4173)، ترمذی (2786)، نسائی (9361) اور ابن حبان (4424) نے ثابت بن عمارہ سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے "حسن صحیح" کہا۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ثابت بن عمارہ کی وجہ سے "قوی" ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19747) عن روح بن عبادة - وقرن به عبد الواحد الحدّاد - بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد (19578) و (19711)، وأبو داود (4173)، والترمذي (2786)، والنسائي (9361)، وابن حبان (4424) من طرق عن ثابت بن عمارة، به. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (32/ 19747) نے روح بن عبادہ سے، اور احمد، ابو داود (4173)، ترمذی (2786)، نسائی (9361) اور ابن حبان (4424) نے ثابت بن عمارہ سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے "حسن صحیح" کہا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3539 سے ماخوذ ہے۔