حدیث نمبر: 3537
أخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عَمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، عن سليمان التَّيْمي، عن القاسم بن محمد، عن عبد الله بن عمرو بن العاص في قوله: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [النور: 3]، قال: كنَّ نساءٌ موارد بالمدينة، فكان الرجل المسلمُ يَزَّوَّجُ المرأةَ منهن لتُنفِقَ عليه، قال: فنُهُوا عن ذلك (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3495 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے متعلق روایت ہے کہ مدینہ میں کچھ بدکار عورتیں تھیں جن کے ٹھکانے معلوم تھے، پس کچھ (نادار) مسلمان مرد ان عورتوں سے اس لیے نکاح کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ ان پر خرچ کریں، تو انہیں اس سے روک دیا گیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3537
درجۂ حدیث محدثین: خبر حسن
تخریج حدیث «خبر حسن، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع بين القاسم وعبد الله، بينهما فيه الحضرميُّ وليس بابن لاحق كما سلف بيانه برقم (2821) في طريق المعتمر بن سليمان التيمي عن أبيه، وهو حسن الحديث إن شاء الله» [ترقيم الرساله 3537] [ترقيم الشركة 3516] [ترقيم العلميه 3495]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) خبر حسن، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع بين القاسم وعبد الله، بينهما فيه الحضرميُّ وليس بابن لاحق كما سلف بيانه برقم (2821) في طريق المعتمر بن سليمان التيمي عن أبيه، وهو حسن الحديث إن شاء الله
درجۂ حدیث: (2) خبر "حسن" ہے۔ سند کے راوی "ثقہ" ہیں مگر قاسم اور عبد اللہ کے درمیان "منقطع" ہے، کیونکہ ان کے بیچ "الحضرمی" ہیں (جو ابن لاحق نہیں)۔ یہ ان شاء اللہ "حسن الحدیث" ہے۔
وأخرجه أحمد بن منيع في "مسنده" كما في "إتحاف الخيرة" (5769/ 2)، والطبري 18/ 71 من طريق هشيم، بهذا الإسناد. ولفظه عند الطبري: كن نساء معلومات.
حوالہ / مصدر: اسے احمد بن منیع (اتحاف الخیرۃ: 5769/ 2) اور طبری (18/ 71) نے ہشیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ طبری کے الفاظ ہیں: "کن نساء معلومات" (وہ معروف عورتیں تھیں)۔
والمراد بالموارد أنهن يَرِدُ الرجال إليهن ويحضرون عندهن، وهو كناية عن الزواني.
نوٹ / توضیح: "الموارد" سے مراد ہے کہ مرد ان کے پاس آتے تھے اور حاضر ہوتے تھے، یہ "زانیہ عورتوں" سے کنایہ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3537 سے ماخوذ ہے۔