أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سعيد بن يزيد أبو شُجَاع، عن أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، عن رسول الله ﷺ: ﴿تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ [المؤمنون: 104] قال: "تَشْويهِ النارُ فَتَقلِصُ شَفَتُه العُليا حتى تَبْلُغَ وَسَطَ رأسه، وتَستَرخي شَفَتُه السُّفلى حتى تضربَ سُرَّتَه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿تَلْفَحُ وُجُوهَهُمُ النَّارُ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 104] ”آگ ان کے چہروں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں بدشکل (ٹیڑھے منہ والے) ہوں گے“ کے متعلق فرمایا: ”آگ انہیں اس قدر جھلسائے گی کہ ان کا اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سر کے درمیانی حصے تک پہنچ جائے گا اور ان کا نچلا ہونٹ لٹک کر ان کی ناف تک جا لگے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عَمْرو بن طلحة، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن عبد الله بن مسعود في قول الله ﷿: ﴿وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ [المؤمنون: 104]، قال: ككُلوحِ الرأس النَّضِيج (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3491 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3491 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 104] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (ان کی حالت) بھنے ہوئے سر کی طرح ہوگی جس کے ہونٹ سکڑ کر دانت باہر نکل آئے ہوں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن أبي أيوب، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: إنَّ أهل النار يَدْعُون مالكًا فلا يجيبُهم أربعين يومًا، ثم يردُّ عليهم: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: 77]، قال: هانت دعوتُهم واللهِ على مالكٍ وربِّ مالك، قالوا: ﴿رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ﴾ [المؤمنون: 106]، قال: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 108] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [24 - ومن تفسير سورة النور]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3492 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [24 - ومن تفسير سورة النور]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3492 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل جہنم (جہنم کے داروغہ) مالک کو پکاریں گے تو وہ چالیس سال تک انہیں جواب نہیں دیں گے، پھر وہ انہیں جواب دیں گے: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [سورة الزخرف: 77] ”تمہیں (یہیں) ٹھہرنا ہے۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مالک اور مالک کے رب کے نزدیک ان کی پکار کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، پھر وہ کہیں گے: ﴿رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ﴾ [سورة المؤمنون: 106] ”اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آ گئی اور ہم گمراہ لوگ تھے،“ تو اللہ فرمائے گا: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [سورة المؤمنون: 108] ”اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔