المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
بَيَانُ عَذَابِ أَهْلِ النَّارِ باب: اہلِ جہنم کے عذاب کا بیان
حدثنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن أبي أيوب، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: إنَّ أهل النار يَدْعُون مالكًا فلا يجيبُهم أربعين يومًا، ثم يردُّ عليهم: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: 77]، قال: هانت دعوتُهم واللهِ على مالكٍ وربِّ مالك، قالوا: ﴿رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ﴾ [المؤمنون: 106]، قال: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 108] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ﷽ [24 - ومن تفسير سورة النور]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3492 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل جہنم (جہنم کے داروغہ) مالک کو پکاریں گے تو وہ چالیس سال تک انہیں جواب نہیں دیں گے، پھر وہ انہیں جواب دیں گے: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [سورة الزخرف: 77] ”تمہیں (یہیں) ٹھہرنا ہے۔“ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مالک اور مالک کے رب کے نزدیک ان کی پکار کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، پھر وہ کہیں گے: ﴿رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِّينَ﴾ [سورة المؤمنون: 106] ”اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آ گئی اور ہم گمراہ لوگ تھے،“ تو اللہ فرمائے گا: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [سورة المؤمنون: 108] ”اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند "قوی" ہے۔ ابو ایوب: المراغی (نام یحییٰ یا حبیب بن مالک)۔
وسيتكرر الحديث برقم (8984) بإسناده ومتنه لكن بأوضح ممّا هنا، وفيه هناك: لا يجيبهم أربعين عامًا، وهو الصواب.
نوٹ / توضیح: یہ حدیث (8984) پر مکرر آئے گی، جو یہاں سے زیادہ "واضح" ہے، اور اس میں الفاظ ہیں: "وہ انہیں چالیس سال تک جواب نہیں دے گا"، اور یہی درست ہے۔
وانظر خبر ابن عباس الآتي برقم (3718)، ففيه: ألف عام.
نوٹ / توضیح: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آنے والی خبر (3718) دیکھیں، جس میں "ایک ہزار سال" کا ذکر ہے۔