کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی مچھلی کے پیٹ میں کی گئی دعا
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب إملاءً وقراءةً، حدثنا محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثني يونس بن أبي إسحاق، عن إبراهيم بن محمد بن سعد، عن محمد بن سعد، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "دُعاءُ ذِي النُّونِ إِذْ دعا به وهو في بَطْن الحوت: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87]، أنه لم يَدْع بها رجلٌ مسلمٌ في شيءٍ قطُّ إِلَّا استُجيبَ له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3444 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3444 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے کی تھی: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ”(اے اللہ!) تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصورواروں میں سے ہوں۔“ [سورة الأنبياء: 87] حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص کسی بھی معاملے میں اس کے ذریعے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود في قوله: ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ﴾ قال: ظُلْمة الليل، وظلمةُ بَطْن الحوت، وظُلْمة البحر (1). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3445 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3445 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ﴾ [سورة الأنبياء: 87] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (ان تاریکیوں سے مراد) رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی اور سمندر کی تاریکی ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا طلحة بن عمرو، عن عطاء، عن ابن عبَّاس في قول الله ﷿: ﴿وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ﴾ [الأنبياء: 90] قال: كان في لسانِ امرأة زكريّا طولٌ، فأصلَحَه الله (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3446 - طلحة بن عمرو واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3446 - طلحة بن عمرو واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ﴾ [سورة الأنبياء: 90] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: زکریا علیہ السلام کی اہلیہ کی زبان میں کچھ تیزی (درازی) تھی، تو اللہ تعالیٰ نے اسے درست فرما دیا (یعنی ان کے اخلاق و کلام میں شائستگی پیدا کر دی)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔