کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۂ انبیاء کی تفسیر – بے شک میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ گاروں کے لیے ہے
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن أحمد بن موسى المزكِّي، حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا يعقوب بن كعب الحَلَبي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن زُهَير بن محمد العَنبَري، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ تَلَا قولَ الله ﷿: ﴿وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ [الأنبياء: 28]، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ شفاعتي لأهلِ الكبائر من أمَّتي" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3442 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3442 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ [سورة الأنبياء: 28] کی تلاوت فرمائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا خلَّاد بن يحيى، حدثنا سفيان، عن طلحة، عطاء، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ [الأنبياء: 30]، قال: "فُتِقَت السماءُ بالغَيثِ، وفُتِقَت الأرضُ بالنَّبات" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3443 - طلحة بن عمرو واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3443 - طلحة بن عمرو واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا﴾ [سورة الأنبياء: 30] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: (کائنات کی تخلیق کے وقت) آسمان کو بارش کے ذریعے پھاڑا گیا اور زمین کو نباتات (اگانے) کے ذریعے پھاڑا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔