المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
دُعَاءُ ذِي النُّونِ فِي بَطْنِ الْحُوتِ باب: حضرت ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی مچھلی کے پیٹ میں کی گئی دعا
حدیث نمبر: 3485
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب إملاءً وقراءةً، حدثنا محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثني يونس بن أبي إسحاق، عن إبراهيم بن محمد بن سعد، عن محمد بن سعد، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "دُعاءُ ذِي النُّونِ إِذْ دعا به وهو في بَطْن الحوت: ﴿لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [الأنبياء: 87]، أنه لم يَدْع بها رجلٌ مسلمٌ في شيءٍ قطُّ إِلَّا استُجيبَ له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3444 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ذوالنون (یونس علیہ السلام) کی وہ دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں رہتے ہوئے کی تھی: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ» ”(اے اللہ!) تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی قصورواروں میں سے ہوں۔“ [سورة الأنبياء: 87] حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص کسی بھی معاملے میں اس کے ذریعے دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يونس بن إسحاق. وهو مكرر (1883).
درجۂ حدیث: (2) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند یونس بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ یہ (1883) پر مکرر ہے۔
درجۂ حدیث: (2) حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند یونس بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ یہ (1883) پر مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3485 سے ماخوذ ہے۔