کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: میری امت میں اہلِ کتاب کی روش اپنانے والے اور اہلِ عیش و آرام ہلاک ہو جائیں گے
أخبرني أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثني أبو أيوب سليمان بن عبد الرحمن الدِّمشقي، حدثني عبد الله بن وهب، حدثنا مالك بن خَيْر الزَّبَادي، عن أبي قَبِيل، عن عُقْبة بن عامر قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "سيَهْلِكُ من أمَّتي أهلُ الكِتابِ وأهلُ اللَّبَن" قال عقبةُ: ما أهلُ الكتابِ يا رسول الله؟ قال: "قومٌ يتعلَّمون كتابَ الله يُجادِلون به الذين آمَنوا" قال: فقلت: ما أهلُ اللَّبَن يا رسول الله؟ قال: "قومٌ يَتَّبِعون الشَّهَواتِ ويُضيِّعون الصَّلوات" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3417 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3417 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب میری امت میں سے 'اہل کتاب' اور 'اہلِ لبن' (دودھ والے) ہلاک ہو جائیں گے۔“ عقبہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! اہل کتاب سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو اللہ کی کتاب سیکھیں گے تاکہ اس کے ذریعے (ناحق) ان لوگوں سے جھگڑا کریں جو ایمان لائے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اہل لبن سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو (شہروں کو چھوڑ کر دیہاتوں میں مال مویشی کے پیچھے جا کر) خواہشات کی پیروی کریں گے اور نمازوں کو ضائع کریں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الرحمن بن حسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا﴾ [مريم: 59]، قال: نهرٌ في جهنَّم، بعيدُ القَعْر خبيثُ الطَّعم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3418 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3418 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا﴾ [سورة مريم: 59] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ جہنم میں ایک نہر ہے، جس کی گہرائی بہت زیادہ ہے اور جس کا ذائقہ انتہائی خبیث (بدبودار) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا عاصم بن رجاء بن حَيْوةَ، عن أبيه، عن أبي الدَّرداء رَفَعَ الحديثَ، قال: "ما أَحلَّ الله في كتابه فهو حلالٌ، وما حرَّم فهو حرامٌ، وما سَكَتَ عنه فهو عافيةٌ، فاقبَلُوا من الله عافيتَه، فإنَّ الله لم يكن نَسِيًّا"، ثم تلا هذه الآية: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3419 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3419 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس چیز کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کر دیا وہ حلال ہے، اور جسے حرام کر دیا وہ حرام ہے، اور جس سے (خاموشی اختیار فرما کر) درگزر کیا وہ تمہارے لیے عافیت (رخصت) ہے، پس اللہ کی طرف سے دی گئی اس عافیت کو قبول کرو، کیونکہ اللہ بھولنے والا نہیں ہے،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [سورة مريم: 64] ”اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وَكِيع ويحيى بن آدم قالا: حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا﴾ [مريم: 65]، قال: لم يُسَمَّ أحدٌ الرحمنَ غيرُه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3420 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3420 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا﴾ [سورة مريم: 65] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کے علاوہ کسی کا نام 'الرحمن' نہیں رکھا گیا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
............... (2).
حافظ طلحہ بابر
(اصل متن میں یہاں حدیث موجود نہیں ہے)۔