کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اہلِ ایمان کی اولادیں جنت میں ہوں گی اور ان کی کفالت حضرت ابراہیم علیہ السلام کریں گے
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرَّازي، حدثنا عبد الله بن صالح بن مُسلِم العِجْلي، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن عطاء بن قُرَّة، عن عبد الله بن ضَمْرة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ ذَرَارِيَّ المؤمنين في الجنة يَكفُلُهم إبراهيمُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتَّفَقَ الشيخانِ على إخراج حديث سعيد بن جُبير عن ابن عبَّاس: أنَّ النبي ﷺ سُئِلَ عن أطفال المشركين، فقال: "الله أعلمُ بما كانوا عامِلِينَ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3399 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومنوں کے بچے جنت میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی کفالت میں ہوں گے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) کا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی اس حدیث کو روایت کرنے پر اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے کہ اگر وہ بڑے ہوتے تو کیا عمل کرتے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3439
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن.
تخریج حدیث «إسناده حسن. أبو حاتم الرازي: اسمه محمد بن إدريس.» [ترقيم الرساله 3439] [ترقيم الشركة 3419] [ترقيم العلميه 3399]
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن منصور. وأخبرنا أبو زكريا العَنبَري - واللفظُ له - حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، حدثنا جَرِير، عن منصور، عن مُصعَب بن سعد بن أبي وَقَّاص قال: قلت لأَبي: ﴿هَلْ نُنَبِّئُكُمْ (1) بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا (103) الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ [الكهف: 103، 104] الحَرُوريَّةُ هم؟ قال: لا، ولكنهم أصحابُ الصَّوَامع، والحَرُوريَّة قومٌ زاغوا فأزاغ اللهُ قلوبَهم (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3400 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ ”کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں غارت ہو گئی اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔“ [سورة الكهف: 103-104] سے مراد حروریہ (خوارج) ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، اس سے مراد گرجا گھروں والے (راہب) ہیں۔ اور حروریہ تو وہ قوم ہے جو (حق سے) ٹیڑھی ہو گئی تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3440
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، سفيان: هو الثوري، وإسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، ومنصور: هو ابن المعتمر.» [ترقيم الرساله 3440] [ترقيم الشركة 3420] [ترقيم العلميه 3400]
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، حدثنا خلَّاد بن مُسلِم الصَّفّار، حدثنا عمرو بن قيس المُلَائي، عن عمرو بن مُرَّة، عن مُصعَب بن سعد قال: كنت أقرأُ على أَبي حتى إذا بلغتُ هذه الآية: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا﴾ الآية، قلت: يا أبَتاهُ، أهم الخوارجُ؟ قال: لا يا بنيَّ، اقرأ الآيةَ التي بعدها: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾، قال: هم المجتهدون من النَّصارى، كان كفرُهم بآيات ربهم كفروا بمحمَّدٍ ولقائِه، وقالوا: ليس في الجنة طعام ولا شراب، ولكن الخوارج هم الفاسقون ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ [البقرة: 27] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3401 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن سعد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے سامنے تلاوت کر رہا تھا یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا: ﴿قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا﴾ ”کہہ دیجیے کہ کیا ہم تمہیں اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں کی خبر دیں؟“ [سورة الكهف: 103] تو میں نے عرض کیا: ”اے میرے والد! کیا اس سے مراد خوارج ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں اے میرے بیٹے! اس کے بعد والی آیت پڑھو: ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا﴾ ”یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیتوں اور اس سے ملاقات کا انکار کیا، پس ان کے اعمال ضائع ہو گئے اور ہم قیامت کے دن ان کا کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔“ [سورة الكهف: 105] اس سے مراد عیسائیوں میں سے وہ لوگ ہیں جو اپنے دین میں بہت کوشش کرنے والے (راہب وغیرہ) ہیں، ان کا اپنے رب کی نشانیوں کا کفر یہ تھا کہ انہوں نے محمد (ﷺ) اور اللہ سے ملاقات کا انکار کر دیا، اور کہنے لگے کہ جنت میں کوئی کھانا پینا نہیں ہوگا۔ البتہ خوارج تو وہ فاسق ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا: ﴿الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ﴾ ”جو اللہ کے عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں، اور جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔“ [سورة البقرة: 27]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا!
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3441
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي.
تخریج حدیث «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 3441] [ترقيم الشركة 3421] [ترقيم العلميه 3401]