کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا جبرئیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سوراخ کیا اور اسی سے براق کو باندھا
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الجرَّاحي بمَرْو، حدثنا محمد بن علي بن حمزة الحافظ، حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدَّوْرَقي، حدثنا أبو تُمَيلةَ، عن الزُّبير بن جُنَادة، عن ابن بُرَيدة، عن أبيه (1) قال: قال رسول الله ﷺ: "لمَّا انتَهَينا إلى بيت المَقدِس قال جِبريلُ بإصبَعِهِ فَخَرَقَ بها الحَجَرَ، وشَدَّ به البُراقَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وأبو تُميلة والزُّبير مَروَزيَّان ثِقَتان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3370 - صحيح والزبير مروزي ثقة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب ہم بیت المقدس پہنچے تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے اشارہ کیا اور اس سے پتھر میں سوراخ کر دیا، اور اس کے ساتھ براق کو باندھ دیا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابوتُمیلہ اور زبیر دونوں مرو کے رہنے والے اور ثقہ راوی ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3410
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد. أبو تُميلة: هو يحيى بن واضح
تخریج حدیث «إسناده جيد. أبو تُميلة: هو يحيى بن واضح، وقول الحافظ ابن حجر في الزبير بن جنادة في "التقريب": مقبول، غير مقبول، فهذا الرجل صدوق لا بأس به، قد وثَّقه يحيى بن معين في رواية ابن الجنيد عنه والحاكم هنا وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وقال أبو حاتم الرازي: شيخ ليس بالمشهور.» [ترقيم الرساله 3410] [ترقيم الشركة 3390] [ترقيم العلميه 3370]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهدُ، حدثنا أحمد بن مِهْرانَ، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا سفيان، عن سليمان التَّيْمي، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن سَلْمان قال: كان نوحٌ إذا طَعِمَ طعامًا أو لَبِسَ ثوبًا حَمِدَ اللهَ، فسُمِّيَ عبدًا شَكُورًا (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3371 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سیدنا نوح علیہ السلام جب کوئی کھانا کھاتے یا کوئی کپڑا پہنتے تو اللہ کی حمد بیان کرتے تھے، اسی لیے انہیں بہت شکر گزار بندہ («عبدًا شكورًا») کہا گیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3411
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران، وقد توبع. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري، وأبو عثمان النهدي: هو عبد الرحمن بن ملٍّ.» [ترقيم الرساله 3411] [ترقيم الشركة 3391] [ترقيم العلميه 3371]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِرِي، حدثنا أبو أُسامة، حدثنا الأعمش، عن عبد الملك بن مَيسَرة، عن طاووس قال: كنتُ عند ابن عبَّاس ومعنا رجلٌ من القَدَريَّة، فقلت: إنَّ أُناسًا يقولون: لا قَدَرَ، قال: أوَفي القوم أحدٌ منهم؟ قال: قلت: لو كان، ما كنتَ تَصنَعُ؟ قال: لو كان فيهم أحدٌ منهم لأخذتُ برأسِه، ثم قرأتُ عليه آيةَ كذا وكذا: ﴿وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ [الإسراء: 4] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3372 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
طاؤس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا اور ہمارے ساتھ قدریہ (تقدیر کا انکار کرنے والے گروہ) کا ایک شخص بھی تھا۔ میں نے عرض کیا: ”کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی تقدیر نہیں ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”کیا ان لوگوں میں ان (قدریہ) میں سے کوئی موجود ہے؟“ میں نے کہا: ”اگر ہوتا تو آپ کیا کرتے؟“ انہوں نے فرمایا: ”اگر ان میں سے کوئی یہاں ہوتا تو میں اس کا سر پکڑ لیتا، پھر اس پر یہ آیت پڑھتا: ﴿وَقَضَيْنَا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا﴾ ”اور ہم نے بنی اسرائیل کے لیے کتاب میں فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار ضرور فساد برپا کرو گے اور تم بڑی سرکشی کرو گے۔“ [سورة الإسراء: 4]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3412
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، والأعمش: هو سليمان بن مهران.» [ترقيم الرساله 3412] [ترقيم الشركة 3392] [ترقيم العلميه 3372]
أخبرني أحمد بن بالَوَيه العَفْصي، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة العَبْسي، حدثنا أبي، حدثنا وَكيع، حدثنا الأعمش، عن أبي وائل قال: كان عبد الله كثيرًا ما يتلو هذه الآية: ﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الإسراء: 9] خَفِيف، قال عثمان: وهذه قراءةُ حمزةَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3373 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کثرت سے یہ آیت اس طرح پڑھا کرتے تھے: ﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (اور «يُبَشِّرُ» کو بغیر تشدید کے ہلکا یعنی «يَبْشُرُ» پڑھتے تھے)۔ عثمان (راوی) کہتے ہیں: اور یہی حمزہ کی قراءت ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3413
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.» [ترقيم الرساله 3413] [ترقيم الشركة 3393] [ترقيم العلميه 3373]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد بن يحيى الشَّهيد، حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا ليث بن سَعْد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، إني ذو مالٍ كثيرٍ، وذو أهْلٍ ووَلَد، فكيف يَجِبُ لي أن أَصنعَ أو أُنفِقَ؟ قال: "أدِّ الزكاةَ المفروضةَ طُهْرةً تُطَهِّرُك، وآتِ صِلَةَ الرَّحِم واعرِفْ حقَّ السائلِ والجارِ والمسكين"، قال: يا رسولَ الله، أَقلِلْ لي؟ قال: "فآتِ ذَا القُربَى حقَّه والمسكينَ وابنَ السَّبيل ولا تُبذِّرْ تبذيرًا"، قال: يا رسول الله، إذا أدَّيتُ الزكاةَ إلى رسول (1) رسولِ الله، فقد أدَّيتُها إلى الله وإلى رسوله؟ قال: "نعم، إذا أدَّيتَها إلى رسوله (2)، فقد أدَّيتَها ولك أجرُها، وعلى مَن بَدَّلَها إثمُها" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3374 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں بہت مال و دولت اور اہل و عیال والا ہوں۔ میرے لیے کیا ضروری ہے کہ میں کیسے کماؤں یا کیسے خرچ کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرض زکوٰۃ ادا کرو، یہ تمہیں پاک کر دے گی، اور رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو، اور مانگنے والے، پڑوسی اور مسکین کا حق پہچانو۔“ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ کم کر دیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر رشتہ داروں، مساکین اور مسافروں کو ان کا حق دو اور فضول خرچی نہ کرو۔“ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر میں رسول اللہ کے بھیجے ہوئے نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دوں، تو کیا میں نے اسے اللہ اور اس کے رسول کو ادا کر دیا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، جب تم نے اسے اس (رسول) کے نمائندے کو ادا کر دیا تو تم نے اسے ادا کر دیا اور تمہارے لیے اس کا اجر ہے، اور جو اسے (اس کے حق سے) بدل دے گا تو اس کا گناہ اسی پر ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3414
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لانقطاعه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه، سعيد بن أبي هلال لا يُعرف له سماع من أنس، وقد بيَّن ابن وهب في "جامعه" (200) - ومن طريقه البيهقي 4/ 97 - أنَّ بينهما في هذا الحديث واسطة مُبهَمة. أبو الوليد الطيالسي: هو هشام بن عبد الملك.» [ترقيم الرساله 3414] [ترقيم الشركة 3394] [ترقيم العلميه 3374]
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن يحيى بن الجزَّار قال: جاء أبو العُبَيدَينِ إلى عبد الله، وكان رجلًا ضريرَ البصر، فكان عبدُ الله يَعرِفُ له، فقال: يا أبا عبد الرحمن، مَن نسألُ إذا لم نَسألْكَ؟ قال: فما حاجتُك؟ قال: ما الأَوَّاهُ؟ قال: الرَّحيم، قال: فما الماعُونُ؟ قال: ما يَتعاوَنُ الناسُ بينهم، قال: فما التبذيرُ؟ قال: إنفاقُ المال في غير حقِّه، قال: فما الأُمَّة؟ قال: الذي يُعلِّم الناسَ الخيرَ (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3375 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن جزار سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ابو العبیدین سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور وہ ایک نابینا شخص تھے، عبداللہ رضی اللہ عنہ ان کی قدر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پوچھا: ”اے ابو عبدالرحمٰن! اگر ہم آپ سے نہ پوچھیں تو کس سے پوچھیں؟“ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہاری کیا ضرورت ہے؟“ انہوں نے پوچھا: ”«الأواه» کیا ہے؟“ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رحم کرنے والا۔“ انہوں نے پوچھا: ”«الماعون» کیا ہے؟“ فرمایا: ”وہ چیزیں جن کا لوگ آپس میں ایک دوسرے سے لین دین کرتے ہیں (جیسے عام استعمال کی چیزیں)۔“ انہوں نے پوچھا: ”«التبذير» کیا ہے؟“ فرمایا: ”مال کو ناحق جگہ پر خرچ کرنا۔“ انہوں نے پوچھا: ”«الأمة» کیا ہے؟“ فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں کو بھلائی سکھائے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3415
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، والحكم: هو ابن عتيبة، وأبو العُبيدين: هو معاوية بن سَبْرة العامري. وأخرجه الطبراني (9007) من طريق علي بن مسهر، عن الأعمش، بهذا الإسناد - إلّا أنَّه ليس في إسناده يحيى بن الجزار، فلعله سقط من المطبوع.» [ترقيم الرساله 3415] [ترقيم الشركة 3395] [ترقيم العلميه 3375]