المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
قَالَ جِبْرِئيلُ بِأُصْبُعِهِ فَخَرَقَ بِهَا الْحَجَرَ وَشَدَّ بِهِ الْبُرَاقَ باب: سیدنا جبرئیل علیہ السلام نے اپنی انگلی سے پتھر میں سوراخ کیا اور اسی سے براق کو باندھا
حدیث نمبر: 3413
أخبرني أحمد بن بالَوَيه العَفْصي، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة العَبْسي، حدثنا أبي، حدثنا وَكيع، حدثنا الأعمش، عن أبي وائل قال: كان عبد الله كثيرًا ما يتلو هذه الآية: ﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الإسراء: 9] خَفِيف، قال عثمان: وهذه قراءةُ حمزةَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3373 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
ابو وائل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کثرت سے یہ آیت اس طرح پڑھا کرتے تھے: ﴿إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (اور «يُبَشِّرُ» کو بغیر تشدید کے ہلکا یعنی «يَبْشُرُ» پڑھتے تھے)۔ عثمان (راوی) کہتے ہیں: اور یہی حمزہ کی قراءت ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "ابو وائل" سے مراد شقیق بن سلمہ ہیں۔
وقراءة (يَبشُر) مخفَّفة قرأ بها أيضًا من السبعة غير حمزةَ الكسائيُّ. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 205 - 206.
نوٹ / توضیح: اور (لفظ) "یَبشُر" کی تخفیف کے ساتھ قراءت، قراءِ سبعہ (سات مشہور قاریوں) میں سے حمزہ کے علاوہ "کسائی" نے بھی کی ہے۔ تفصیل کے لیے ابن مجاہد کی کتاب "السبعۃ" صفحہ 205-206 دیکھیں۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "صحیح" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی "ابو وائل" سے مراد شقیق بن سلمہ ہیں۔
وقراءة (يَبشُر) مخفَّفة قرأ بها أيضًا من السبعة غير حمزةَ الكسائيُّ. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 205 - 206.
نوٹ / توضیح: اور (لفظ) "یَبشُر" کی تخفیف کے ساتھ قراءت، قراءِ سبعہ (سات مشہور قاریوں) میں سے حمزہ کے علاوہ "کسائی" نے بھی کی ہے۔ تفصیل کے لیے ابن مجاہد کی کتاب "السبعۃ" صفحہ 205-206 دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3413 سے ماخوذ ہے۔