کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آیت “جن لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا” کی تفسیر
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا بسَّام الصَّيرَفي، حدثنا أبو الطُّفيل عامر بن واثلةَ قال: سمعتُ عليًّا قام فقال: سَلُوا قبل أن لا تَسأَلوا، ولن تَسأَلوا بعدي مِثْلي، فقام ابنُ الكَوَّاءِ فقال: مَن ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إبراهيم: 28]؟ قال: قال: منافِقُو قُريشٍ، قال: فمَن ﴿الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ [الكهف: 104]؟ قال: منهم أهلُ حَرُوراء (1).
هذا حديث صحيحٌ عالٍ، وبسَّام بن عبد الرحمن الصَّيرَفي من ثِقات الكوفيين ممَّن يُجمَع حديثُهم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
ابو طفیل عامر بن واثلہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ تم نہ پوچھ سکو، اور میرے بعد تم میرے جیسے کسی شخص سے نہیں پوچھ سکو گے۔“ اس پر ابن کواء کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا: ”وہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ ”جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار دیا۔“ [سورة إبراهيم: 28] “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ قریش کے منافقین ہیں۔“ پھر اس نے پوچھا: ”اور وہ کون ہیں جن کے بارے میں فرمایا ﴿الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ ”یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں غارت ہو گئی اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔“ [سورة الكهف: 104] سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اہل حروراء (خوارج) انہی میں سے ہیں۔“
یہ حدیث عالی سند کے ساتھ صحیح ہے، اور بسام بن عبدالرحمٰن صیرفی کوفہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی احادیث جمع کی جاتی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3382
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بسام الصَّيرفي، وبعضهم سمَّى أباه عبدَ الله. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 3382] [ترقيم الشركة 3362]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن علي بن ميمون الرَّقِّي، حدثنا محمد بن يوسف الفِرْيابي، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن عَمرٍو ذي مُرٍّ، عن علي في قوله ﷿: ﴿وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إبراهيم: 28]، قال: هما الأفجرانِ من قُريش: بنو أُميَّة وبنو المُغيرةِ، فأما بنو المغيرة فقد قَطَعَ اللهُ دابِرَهم يومَ بدر، وأما بنو أُميَّة فمُتِّعوا إلى حِينٍ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3343 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عمرو ذی مر سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ ”اور انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار دیا۔“ [سورة إبراهيم: 28] کے بارے میں فرمایا: ”یہ قریش کے دو سب سے زیادہ نافرمان قبیلے ہیں: بنو امیہ اور بنو مغیرہ۔ بنو مغیرہ کی جڑ تو اللہ نے جنگ بدر کے دن کاٹ دی، اور بنو امیہ کو ایک وقت مقرر تک مہلت دی گئی ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3383
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لتفرُّد عمرو ذو مُرٍّ به
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرُّد عمرو ذو مُرٍّ به، فإنه في عِداد المجاهيل، لم يرو عنه غير أبي إسحاق السَّبيعي، وقال البخاري وابن عدي: لا يُعرَف، وقال ابن حبان في "المجروحين" 2/ 67: في حديثه مناكير كثيرة، وانفرد العجلي فوثّقه.» [ترقيم الرساله 3383] [ترقيم الشركة 3363] [ترقيم العلميه 3343]
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا عُقْبة بن مُكْرَم الضَّبِّي، حدثنا محبوبُ بن الحسن، حدثنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن عائشة قالت: قرأَ رسول الله ﷺ: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ [إبراهيم: 48]، قلت: أين الناسُ يومئذٍ؟ قال: "على الصِّراطِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! 15 - سورة الحِجْر ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3344 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ ”جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی، اور سب لوگ اللہ واحد قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔“ [سورة إبراهيم: 48] میں نے پوچھا: ”اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3384
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محبوب بن الحسن، ومحبوب لقب واسمه محمد بن الحسن بن هلال، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.» [ترقيم الرساله 3384] [ترقيم الشركة 3364] [ترقيم العلميه 3344]