کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ایک نوجوان کی آیت “اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ” سن کر وفات کا واقعہ
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوْهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا محمد بن يزيد بن خُنَيس، عن عبد العزيز بن أبي روَّاد، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: لما أَنزل الله ﷿ على نبيِّه ﷺ ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ [التحريم: 6]، تَلَاها رسولُ الله ﷺ على أصحابه ذاتَ ليلة - أو قال يوم - فخَرَّ فتًى مَغشِيًّا عليه، فَوَضَعَ النبيُّ ﷺ يدَه على فؤادِه فإذا هو يَتحرَّك، فقال: "يا فتى، قل: لا إلهَ إلَّا الله" فقالها، فبشَّرَه بالجنة، فقال أصحابه: يا رسولَ الله، أَمِنْ بينِنا؟ فقال ﷺ: "أمَا سمعتُم قول الله ﷿: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ﴾ [إبراهيم: 14] " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا﴾ ”اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔“ [سورة التحريم: 6] تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک رات (یا دن میں) اپنے صحابہ کے سامنے تلاوت فرمایا، تو ایک نوجوان بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس کے دل پر رکھا تو وہ دھڑک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے نوجوان! «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہو۔“ اس نے یہ کلمہ کہا تو آپ ﷺ نے اسے جنت کی بشارت دی۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب کے درمیان صرف اسی کے لیے (یہ بشارت ہے)؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ﴾ ”یہ (مقام) اس کے لیے ہے جو میرے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور میری وعید سے خوف کھائے۔“ [سورة إبراهيم: 14] “
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني الحسن بن حَلِيم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا صفوان بن عمرو، عن عبد الله بن بُسْر، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ في قوله ﷿: ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ (16) يَتَجَرَّعُهُ﴾ [إبراهيم: 16، 17]، قال: "يُقرَّبُ إليه فيتَكرَّهُه، فإذا أدنيَ منه شَوَى وجهَه ووَقَعَ فروةُ رأسِه، فإذا شَرِبَ قَطَّعَ أمعاءَه حتى يخرجَ من دُبُرِه" يقول الله: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ [محمد: 15]، ويقول الله ﷿: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ [الكهف: 29] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3339 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3339 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيُسْقَى مِنْ مَاءٍ صَدِيدٍ يَتَجَرَّعُهُ﴾ ”اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا جسے وہ گھونٹ گھونٹ پینے کی کوشش کرے گا۔“ [سورة إبراهيم: 16-17] کے متعلق فرمایا: ”وہ (پانی) اس کے قریب لایا جائے گا تو وہ اس سے کراہت کرے گا، پھر جب وہ اس کے مزید قریب کیا جائے گا تو اس کا چہرہ بھون دے گا اور اس کے سر کی کھال گر جائے گی، پھر جب وہ اسے پیے گا تو اس کی انتڑیاں کاٹ دے گا یہاں تک کہ وہ اس کی دبر سے نکل جائیں گی۔“ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ﴾ ”اور انہیں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ دے گا۔“ [سورة محمد: 15] اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ بِئْسَ الشَّرَابُ﴾ ”اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی ایسے پانی سے کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا، جو چہروں کو بھون دے گا، کیا ہی برا مشروب ہے۔“ [سورة الكهف: 29]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن أحمد بن أَنس القُرشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا عبد الله بن واقد حدثني محمد بن مالك، عن البَرَاء بن عازِبٍ: ﴿تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ﴾ [الأحزاب: 44]، قال: يومَ يَلقَونَ مَلَكَ الموت، ليس من مؤمنٍ يَقبِضُ رُوحَه إلَّا سَلَّم عليه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3340 - عبد الله بن واقد قال ابن عدي مظلم الحديث ومحمد بن مالك قال ابن حبان لا يحتج به
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3340 - عبد الله بن واقد قال ابن عدي مظلم الحديث ومحمد بن مالك قال ابن حبان لا يحتج به
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَامٌ﴾ ”جس دن وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا۔“ [سورة الأحزاب: 44] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہوگا جب وہ ملک الموت سے ملیں گے، کسی بھی مومن کی روح ایسی نہیں قبض کی جاتی مگر یہ کہ موت کا فرشتہ اسے سلام کہتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا العلاء بن عبد الجبار العطَّار، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن شعيب بن الحَبْحاب، عن أنس بن مالك قال: أُتيَ رسولُ الله ﷺ بقِنَاع من بُسْر، فقرأ: مَثَلُ كلمةٍ طيبةٍ كشجرةٍ طيبةٍ (1)، فقال: "هي النخلةُ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3341 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3341 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ٹوکری لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں۔ آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَثَلُ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ﴾ ”ایک پاکیزہ بات کی مثال ایک پاکیزہ درخت جیسی ہے۔“ [سورة إبراهيم: 24] اور پھر فرمایا: ”یہ کھجور کا درخت ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔