المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ آيَةِ : ( الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَةَ اللَّهِ كُفْرًا ) إلخ باب: آیت “جن لوگوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا” کی تفسیر
حدیث نمبر: 3384
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا عُقْبة بن مُكْرَم الضَّبِّي، حدثنا محبوبُ بن الحسن، حدثنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن مسروق، عن عائشة قالت: قرأَ رسول الله ﷺ: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ [إبراهيم: 48]، قلت: أين الناسُ يومئذٍ؟ قال: "على الصِّراطِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه! 15 - سورة الحِجْر ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3344 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ ”جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی، اور سب لوگ اللہ واحد قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔“ [سورة إبراهيم: 48] میں نے پوچھا: ”اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پل صراط پر۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل محبوب بن الحسن، ومحبوب لقب واسمه محمد بن الحسن بن هلال، وقد توبع، وباقي رجاله ثقات.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی سند محبوب بن الحسن کی وجہ سے متابعات و شواہد میں حسن ہے (محبوب لقب ہے، نام محمد بن الحسن بن ہلال ہے)، اور ان کی متابعت کی گئی ہے، اور باقی راوی ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24069)، ومسلم (2791)، وابن ماجه (4279)، والترمذي (3121) و (3242)، وابن حبان (331) و (7380) من طرق عن داود بن أبي هند، بهذا الإسناد. واستدراك المصنف له ذهول منه ﵀. وسيأتي بنحوه عند المصنف برقم (3672) من طريق ابن عبَّاس عن عائشة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24069)، مسلم (2791)، ابن ماجہ (4279)، ترمذی (3121، 3242) اور ابن حبان (331، 7380) نے داود بن ابی ہند سے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف (حاکم) کا اس پر استدراک کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
حوالہ / مصدر: اور یہ مصنف کے ہاں رقم (3672) پر ابن عباس عن عائشہ کے طریق سے اسی کی مثل آئے گا۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور اس کی سند محبوب بن الحسن کی وجہ سے متابعات و شواہد میں حسن ہے (محبوب لقب ہے، نام محمد بن الحسن بن ہلال ہے)، اور ان کی متابعت کی گئی ہے، اور باقی راوی ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24069)، ومسلم (2791)، وابن ماجه (4279)، والترمذي (3121) و (3242)، وابن حبان (331) و (7380) من طرق عن داود بن أبي هند، بهذا الإسناد. واستدراك المصنف له ذهول منه ﵀. وسيأتي بنحوه عند المصنف برقم (3672) من طريق ابن عبَّاس عن عائشة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24069)، مسلم (2791)، ابن ماجہ (4279)، ترمذی (3121، 3242) اور ابن حبان (331، 7380) نے داود بن ابی ہند سے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف (حاکم) کا اس پر استدراک کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
حوالہ / مصدر: اور یہ مصنف کے ہاں رقم (3672) پر ابن عباس عن عائشہ کے طریق سے اسی کی مثل آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3384 سے ماخوذ ہے۔