حدیث نمبر: 3382
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا بسَّام الصَّيرَفي، حدثنا أبو الطُّفيل عامر بن واثلةَ قال: سمعتُ عليًّا قام فقال: سَلُوا قبل أن لا تَسأَلوا، ولن تَسأَلوا بعدي مِثْلي، فقام ابنُ الكَوَّاءِ فقال: مَن ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [إبراهيم: 28]؟ قال: قال: منافِقُو قُريشٍ، قال: فمَن ﴿الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ [الكهف: 104]؟ قال: منهم أهلُ حَرُوراء (1).
هذا حديث صحيحٌ عالٍ، وبسَّام بن عبد الرحمن الصَّيرَفي من ثِقات الكوفيين ممَّن يُجمَع حديثُهم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

ابو طفیل عامر بن واثلہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ تم نہ پوچھ سکو، اور میرے بعد تم میرے جیسے کسی شخص سے نہیں پوچھ سکو گے۔“ اس پر ابن کواء کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا: ”وہ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے ﴿الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ ”جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر میں اتار دیا۔“ [سورة إبراهيم: 28] “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ قریش کے منافقین ہیں۔“ پھر اس نے پوچھا: ”اور وہ کون ہیں جن کے بارے میں فرمایا ﴿الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا﴾ ”یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں غارت ہو گئی اور وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں۔“ [سورة الكهف: 104] سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اہل حروراء (خوارج) انہی میں سے ہیں۔“
یہ حدیث عالی سند کے ساتھ صحیح ہے، اور بسام بن عبدالرحمٰن صیرفی کوفہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی احادیث جمع کی جاتی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3382
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بسام الصَّيرفي، وبعضهم سمَّى أباه عبدَ الله. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 3382] [ترقيم الشركة 3362]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل بسام الصَّيرفي، وبعضهم سمَّى أباه عبدَ الله. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے اور بسام الصیرفی کی وجہ سے اس کی سند قوی ہے، اور بعض نے ان کے والد کا نام عبداللہ بتایا ہے۔
نوٹ / توضیح: (راوی) ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه النسائي (11203) من طريق القاسم بن أبي بزّة، عن أبي الطفيل. واقتصر على السؤال الأول.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (11203) نے قاسم بن ابی بزہ کے طریق سے، ابوالطفیل سے روایت کیا ہے، اور صرف پہلے سوال پر اکتفا کیا ہے۔
وسيأتي بأطول مما هنا برقم (3778) من طريق محمد بن عبيد عن بسام.
حوالہ / مصدر: اور یہ محمد بن عبید کے واسطے سے بسام سے آگے رقم (3778) پر یہاں سے زیادہ طویل شکل میں آئے گا۔
وقد روي هذا من غير وجه عن أبي الطفيل عن علي، انظر "تفسير عبد الرزاق" 1/ 342 و 413 و 2/ 241 - 242، و"تفسير الطبري" 13/ 220 و 221 و 16/ 34.
متابعات و شواہد: یہ ابوالطفیل کے واسطے سے حضرت علی سے متعدد طریقوں سے مروی ہے۔ دیکھئے: "تفسیر عبدالرزاق" (1/ 342، 413 اور 2/ 241-242)، اور "تفسیر طبری" (13/ 220، 221 اور 16/ 34)۔
وانظر ما بعده.
حوالہ / مصدر: اور جو اس کے بعد ہے اسے دیکھ لیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3382 سے ماخوذ ہے۔