کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: وہ مسجد جو تقویٰ پر قائم کی گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ وأبو عبد الله محمد بن عبد الله ابن دينار قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الله (1) بن عامر الأسلَمي، عن عِمْران بن أبي أنس، عن سَهْل بن سعد الساعدي، عن أُبيِّ بن كعب قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن المسجد الذي أُسِّسَ على التَّقوى، قال: "هو مَسجِدي هذا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه وشاهده حديث أبي سعيد الخُدْري أصحُّ منه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3284 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس مسجد کے بارے میں پوچھا گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میری یہی مسجد ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی شاہد حدیث جو کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3323
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الأسلمي، لكنه لم ينفرد به فقد توبع عليه لكن من حديث سهل بن سعد بإسقاط أُبي بن كعب.» [ترقيم الرساله 3323] [ترقيم الشركة 3303] [ترقيم العلميه 3284]
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق الأنصاري، حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا وَكيع، حدثنا أسامة بن زيد، عن عبد الرحمن ابن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه قال: المسجد الذي أُسِّسَ على التقوى مسجدُ رسول الله ﷺ (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3285 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد الرحمن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3324
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد» [ترقيم الرساله 3324] [ترقيم الشركة 3304] [ترقيم العلميه 3285]
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدثنا عُمير بن مِرْداس، حدثنا مطرِّف بن عبد الله، حدثنا سَحبَل عبدُ الله بن محمد بن أبي يحيى، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي سعيد الخُدْري قال: تَلاحَى رجلان في المسجد الذي أُسِّسَ على التقوى، فقال أحدهما: هو مسجدُ رسول الله، وقال الآخر: هو مسجدُ قُباءٍ، فتَساوَقا إلى رسول الله ﷺ، فسأَلاه عن ذلك، فقال رسول الله ﷺ: المسجدُ الذي أُسِّسَ على التقوى هو مَسجِدي هذا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3286 - إسناده جيد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے اس مسجد کے بارے میں بحث کی جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی، ایک نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے، جبکہ دوسرے نے کہا: وہ مسجدِ قبا ہے، پھر وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے، وہ میری یہی مسجد ہے“۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3325
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد كما قال الذهبي في "تلخيصه"، إلّا أنَّ مطرِّف بن عبد الله -وهو ابن مطرف بن سليمان بن يسار- قد خولف فيه على عبد الله بن محمد بن أبي يحيى الملَّقب بسحبل، فقد رواه عبد الله بن وهب عند الطبري في "تفسيره" 11/ 28 والطحاوي في ...» [ترقيم الرساله 3325] [ترقيم الشركة 3305] [ترقيم العلميه 3286]
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي (2)، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا هشام بن عمّار السُّلَمي، حدثنا صَدَقة بن خالد، عن عُتْبة بن أبي حَكيم، حدثني طلحة بن نافع، حدثني أبو أيوب الأنصاري وجابر بن عبد الله وأنس بن مالك: أنَّ هذه الآيةَ لما نزلت: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [التوبة: 108]، قال رسول الله ﷺ: "يا معشرَ الأنصار، إنَّ الله قد أثنى عليكم في الطُّهور خيرًا، فما طُهورُكم هذا؟ " قالوا: نتوضَّأُ للصلاة، ونغتسلُ من الجَنَابة، ونستنجي بالماء، قال: "هو ذاكَ فعَليكُم به" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3287 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ جب یہ آیت ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [سورة التوبة: 108] ”اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں“ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ انصار! اللہ تعالیٰ نے طہارت و پاکیزگی کے معاملے میں تمہاری بہترین تعریف فرمائی ہے، پس تمہاری وہ پاکیزگی کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی کے ساتھ استنجا کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ (اعلیٰ طریقہ) ہے، پس تم اسے لازم پکڑ لو“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3326
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 3326] [ترقيم الشركة 3306] [ترقيم العلميه 3287]
حدثنا أبو جعفر محمد بن سليمان بن موسى المذكِّر، حدثنا جُنَيد بن حَكيم الدَّقّاق، حدثنا حامد بن يحيى البَلْخي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو ابن دينار، عن عُبيد بن عُمير، عن أبي هريرة قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن السائِحِين، فقال: "هم الصائمونَ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، على أنه ممّا أَرسلَه أكثرُ أصحاب ابن عُيينة ولم يذكروا أبا هريرة في إسناده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3288 - على شرط البخاري ومسلم أرسله أكثر أصحاب ابن عيينة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے «سائحين» (سفر کرنے والوں) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ روزہ دار لوگ ہیں“۔ [سورة التوبة: 112]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ابن عیینہ کے اکثر اصحاب نے اسے مرسل بیان کیا ہے اور اس کی سند میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3327
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرفوعًا موصولًا ضعيف
تخریج حدیث «إسناده مرفوعًا موصولًا ضعيف، أبو جعفر المذكِّر شيخ المصنف قال فيه المصنف نفسه فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان": يحدِّث بعجائب، وشيخه جنيد بن حكيم الدقاق قال الدارقطني: ليس بالقوي. قلنا: والمحفوظ عن سفيان بن عيينة عن عمرو عن عبيد ابن عمير عن النبي ﷺ مرسلًا، هكذا ...» [ترقيم الرساله 3327] [ترقيم الشركة 3307] [ترقيم العلميه 3288]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سفيان. وأخبرني علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الخَليل، عن عليٍّ قال: سمعتُ رجلًا يستغفرُ لأبويه وهما مُشرِكان، فقلت: لا تَستغفِرْ لأبويك وهما مشركان، فقال: أليس قد استَغفَر إبراهيمُ لأبيه وهو مشركٌ؟ فذَكَرتُه للنبي ﷺ، فنزلت: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ [التوبة: 113 - 114] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3289 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو اپنے والدین کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، میں نے کہا: تم اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کیوں کر رہے ہو جبکہ وہ مشرک ہیں؟ اس نے کہا: کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی حالانکہ وہ مشرک تھے؟ چنانچہ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 113 - 114] ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں، خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب ان پر یہ بات واضح ہو چکی کہ وہ جہنمی ہیں، اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا محض اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا، پھر جب ان پر یہ واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے دستبردار ہو گئے، بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بہت نرم دل اور بردبار تھے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل، وقيل: ابن الخليل. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 3328] [ترقيم الشركة 3308] [ترقيم العلميه 3289]
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا المفضَّل (1) بن محمد الجَنَدي بمكة، حدثنا أبو حُمَةَ، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر قال: لما مات أبو طالبٍ قال رسول الله ﷺ: "رَحِمَك اللهُ وغَفَرَ لك يا عمّ، ولا أزالُ أستغفرُ لك حتى ينهانيَ اللهُ ﷿"، فأخذ المسلمون يستغفرون لموتاهم وهم مشركون، فأنزل الله: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقال لنا أبو علي على إثره: لا أعلمُ أحدًا وَصَلَ هذا الحديث عن سفيان غير أبي حُمَة اليَمَاني، وهو ثقة، وقد أرسَلَه أصحابُ ابن عُيينة عنه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3290 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابوطالب کی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے چچا! اللہ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کی مغفرت کرے، میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک اللہ عزوجل مجھے اس سے روک نہ دے“، چنانچہ مسلمانوں نے بھی اپنے فوت شدہ مشرک رشتہ داروں کے لیے استغفار کرنا شروع کر دیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ﴾ [سورة التوبة: 113]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابو علی رحمہ اللہ نے اس کے بعد ہمیں بتایا کہ میں ابو حمہ یمانی کے علاوہ کسی کو نہیں جانتا جس نے سفیان سے اس حدیث کو متصل سند کے ساتھ روایت کیا ہو، اور وہ ثقہ ہیں، جبکہ ابن عیینہ کے دیگر اصحاب نے اسے ان سے مرسل روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3329
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد، إن كان أبو حمة -واسمه محمد بن يوسف الزَّبيدي اليماني- حفظه عن سفيان موصولًا، فإنَّ أبا حمة هذا لما ذكره ابن حبان في "ثقاته" 9/ 104 قال: ربما أخطأ وأغرب. قلنا: وقد خالفه محمدُ بن عمر الواقدي عند ابن سعد في "الطبقات" 1/ 102، ومن طريقه ابن عساكر ...» [ترقيم الرساله 3329] [ترقيم الشركة 3309] [ترقيم العلميه 3290]