المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
الْمَسْجِدُ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ باب: وہ مسجد جو تقویٰ پر قائم کی گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي (2)، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا هشام بن عمّار السُّلَمي، حدثنا صَدَقة بن خالد، عن عُتْبة بن أبي حَكيم، حدثني طلحة بن نافع، حدثني أبو أيوب الأنصاري وجابر بن عبد الله وأنس بن مالك: أنَّ هذه الآيةَ لما نزلت: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [التوبة: 108]، قال رسول الله ﷺ: "يا معشرَ الأنصار، إنَّ الله قد أثنى عليكم في الطُّهور خيرًا، فما طُهورُكم هذا؟ " قالوا: نتوضَّأُ للصلاة، ونغتسلُ من الجَنَابة، ونستنجي بالماء، قال: "هو ذاكَ فعَليكُم به" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3287 - صحيحسیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ جب یہ آیت ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا﴾ [سورة التوبة: 108] ”اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں“ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے گروہِ انصار! اللہ تعالیٰ نے طہارت و پاکیزگی کے معاملے میں تمہاری بہترین تعریف فرمائی ہے، پس تمہاری وہ پاکیزگی کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی کے ساتھ استنجا کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ (اعلیٰ طریقہ) ہے، پس تم اسے لازم پکڑ لو“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "العنبری" بن گیا ہے۔
(1) إسناده حسن إن شاء الله.
درجۂ حدیث: اس کی سند ان شاءاللہ حسن ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (355) عن هشام بن عمار، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (561).
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (355) نے ہشام بن عمار سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور جو رقم (561) پر گزر چکا ہے اسے دیکھ لیں۔