حدیث نمبر: 3328
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد البِرْتي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سفيان. وأخبرني علي بن عيسى بن إبراهيم، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الخَليل، عن عليٍّ قال: سمعتُ رجلًا يستغفرُ لأبويه وهما مُشرِكان، فقلت: لا تَستغفِرْ لأبويك وهما مشركان، فقال: أليس قد استَغفَر إبراهيمُ لأبيه وهو مشركٌ؟ فذَكَرتُه للنبي ﷺ، فنزلت: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ [التوبة: 113 - 114] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3289 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو اپنے والدین کے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، میں نے کہا: تم اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کیوں کر رہے ہو جبکہ وہ مشرک ہیں؟ اس نے کہا: کیا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب نہیں کی تھی حالانکہ وہ مشرک تھے؟ چنانچہ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ﴾ [سورة التوبة: 113 - 114] ”نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں، خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جب ان پر یہ بات واضح ہو چکی کہ وہ جہنمی ہیں، اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے مغفرت طلب کرنا محض اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے اس سے کیا تھا، پھر جب ان پر یہ واضح ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے دستبردار ہو گئے، بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بہت نرم دل اور بردبار تھے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3328
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل، وقيل: ابن الخليل. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 3328] [ترقيم الشركة 3308] [ترقيم العلميه 3289]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل أبي الخليل: واسمه عبد الله بن أبي الخليل، وقيل: ابن الخليل. أبو نعيم: هو الفضل بن دكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ابوالخلیل (عبداللہ بن ابی الخلیل، یا ابن الخلیل) کی وجہ سے حسن ہے۔
نوٹ / توضیح: ابونعیم: یہ فضل بن دکین ہیں، ابو حذیفہ: یہ موسیٰ بن مسعود نہدی ہیں، سفیان: یہ ثوری ہیں، اور ابواسحاق: یہ عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 2/ (1085)، والترمذي (3101) من طريق وكيع، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (2/ 1085) اور ترمذی (3101) نے وکیع کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔
وأخرجه أحمد 2/ (771) و (1085)، والنسائي (2174) من طريقين عن سفيان، به. وسيأتي برقم (4072).
حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (2/ 771، 1085) اور نسائی (2174) نے سفیان سے دو طریقوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور یہ آگے نمبر (4072) پر آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3328 سے ماخوذ ہے۔