کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: تمہاری اولاد اللہ کی طرف سے تمہیں عطا کی گئی نعمت ہے
حدثني أبو عبد الرحمن محمد بن محمود الحافظ، حدثنا حماد بن أحمد القاضي،، حدثنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق قال: سمعت أَبي يقول: أخبرنا أبو حمزة، عن إبراهيم الصائغ، عن حماد، عن إبراهيم، عن الأَسود، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: "إنَّ أولادَكم هِبةُ الله لكم ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ [الشورى: 49]، فهم وأموالُهم لكم إذا احتَجتُم إليها" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عائشة: "أطيبُ ما أَكل الرجلُ من كَسْبه، وولدُه من كَسْبه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3123 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما اتَّفقا على حديث عائشة: "أطيبُ ما أَكل الرجلُ من كَسْبه، وولدُه من كَسْبه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3123 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً تمہاری اولاد تمہارے لیے اللہ کا عطیہ ہے ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ ”وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔“ [سورة الشورى: 49]، پس وہ اور ان کے اموال تمہارے ہی ہیں جب تمہیں ان کی ضرورت ہو۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ: ”آدمی جو سب سے پاکیزہ کھانا کھاتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی سے ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ: ”آدمی جو سب سے پاکیزہ کھانا کھاتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی سے ہے اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب الضَّبِّي ومحمد بن سِنَان قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبَّاد -وهو ابن العوام- عن سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه قال: أمر رسول الله ﷺ، بصدقةٍ، فجاء رجلٌ من هذا السُّحَّل -قال سفيان: يعني الشِّيصَ- فقال رسول الله ﷺ: "مَن جاءَ بهذا؟ " وكان لا يجيءُ أحدٌ بشيء إِلَّا نُسِبَ إلى الذي جاء به، ونَزَلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ [البقرة: 267]، ونهى رسول الله ﷺ عن لونَينِ من التمر أن يُؤخَذا في الصدقة: الجُعْرورِ ولونِ الحُبَيق. قال الزُّهْري: واللَّونانِ (2) من تمر المدينة (3). تابعه سليمان بن كثير عن الزُّهري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ (زکوٰۃ) کا حکم دیا، تو ایک شخص گھٹیا کھجوریں (شیص) لے کر آیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون لایا ہے؟“ اس وقت ہر چیز اس کے لانے والے کی طرف منسوب کی جاتی تھی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ ”اور اس میں سے گھٹیا چیز (اللہ کی راہ میں) دینے کا ارادہ نہ کرو، حالانکہ اسے تم خود بھی لینا پسند نہیں کرو گے سوائے اس کے کہ تم اس میں چشم پوشی برتو۔“ [سورة البقرة: 267]، اور رسول اللہ ﷺ نے صدقہ میں دو قسم کی کھجوریں لینے سے منع فرمایا: «الجُعْرور» اور «لون الحُبَيق»۔ زہری کہتے ہیں کہ یہ دونوں مدینہ کی کھجوروں کی اقسام ہیں۔
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى الشهيد والسَّرِيّ بن خُزيمة قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيَالسي، حدثنا سليمان ابن كثير، حدثنا الزُّهْري، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ نَهَى عن لونَينِ من التمر: الجُعْرورِ ولونِ الحُبَيق، قال: وكان ناس يتيمَّمُون شرَّ ثِمارِهم فيُخرجونها في الصدقة، فنُهُوا عن لونَينِ من التمر، ونزلت: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3125 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3125 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کی کھجوروں سے منع فرمایا: «الجُعْرور» اور «لون الحُبَيق»۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے پھلوں میں سے گھٹیا ترین تلاش کر کے صدقہ میں نکالا کرتے تھے، تو انہیں ان دو قسم کی کھجوروں سے روک دیا گیا اور یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ ”اور اس میں سے گھٹیا چیز (اللہ کی راہ میں) دینے کا ارادہ نہ کرو۔“ [سورة البقرة: 267]
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
[حدَّثَنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي ومحمد بن بن أنس القرشي قالا] (2): حدثنا أبو عاصم النَّبيل، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني صالح بن أبي عَرِيب، عن كَثير بن مُرَّة، عن عَوْف بن مالك قال: خرج رسول الله ﷺ ومعه عصًا، فإذا أقْناءٌ معلَّقة، قِنوٌ منها حَشَفٌ، فَطَعَنَ في ذلك القِنْو وقال: "ما يَضُرُّ صاحبَ هذه لو تَصدَّق بأطيبَ من هذه؟ إنَّ صاحب هذه لَيَأكلُ الحَشَفَ يومَ القيامة" ثم قال: "واللهِ لَتَدَعُنَّها مُذلَّلةً أربعين عامًا للعَوَافي" ثم قال: "أتدرونَ ما العَوَافِي؟ " قالوا: الله ورسوله أعلمُ، قال: "الطيرُ والسِّباعُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3126 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3126 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک لاٹھی ہاتھ میں لیے تشریف لائے، وہاں (صدقہ کی) کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشہ ردی اور سوکھی کھجوروں «الحشف» کا تھا، آپ ﷺ نے اس خوشے میں لاٹھی ماری اور فرمایا: ”اس صدقہ دینے والے کا کیا بگڑتا اگر وہ اس سے بہتر چیز صدقہ کرتا؟ یقیناً اس کھجور کے مالک کو قیامت کے دن ردی اور سوکھی کھجوریں ہی کھانے کو ملیں گی۔“ پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! تم ان باغات کو چالیس سال تک «عوافی» کے لیے چھوڑ دو گے۔“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، «عوافی» کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرندے اور درندے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔