کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آیت “اور اس میں سے خراب چیز خرچ کرنے کا قصد نہ کرو” کے نازل ہونے کا سبب
أخبرنا أبو أحمد محمد بن أحمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدّي، عن عَدِيّ بن ثابت عن البَرَاء بن عازب في قول الله ﷿: ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ قال: نَزَلَت في الأنصار، كانت الأنصارُ تُخرِجُ إذا كان جِدَادُ النخل من حِيطانها أقناءَ البُسْر، فيُعلِّقونه على حدِّ رأس أُسطوانتين في مسجد رسول الله ﷺ، فيأكل منه فقراءُ المهاجرين، فيَعمِدُ أحدُهم فيُدخِلُ قِنوَ الحَشَفِ يُظنُّ أنه جائزٌ في كثرة ما يُوضَعُ من الأقناء، فنَزَل فيمن فعل ذلك: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ يقول: لا تَعمِدوا إلى الحَشَف منه تُنفِقون ﴿وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ يقول: لو أُهدِيَ لكم لم تَقبَلوه إلَّا على استحياءٍ من صاحبه غَيْظًا أنه بعث إليكم بما لم يكن له فيه حاجةٌ، ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ﴾ عن صَدَقاتِكم ﴿حَمِيدٌ﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3127 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی، انصار کا یہ طریقہ تھا کہ جب ان کے باغات میں کھجوریں پکنے کا وقت آتا تو وہ کچی پکی کھجوروں کے خوشے نکالتے اور انہیں مسجد نبوی کے دو ستونوں کے درمیان لٹکا دیتے تاکہ فقراء مہاجرین ان میں سے کھا سکیں، تو ان میں سے کوئی شخص یہ گمان کرتے ہوئے کہ اتنے زیادہ خوشوں میں یہ بھی چل جائے گا، ردی اور سوکھی کھجوروں «الحشف» کا خوشہ بھی لٹکا دیتا، تب اس فعل پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ یعنی دانستہ طور پر ردی اور گھٹیا چیز نکالنے کا ارادہ نہ کرو ﴿وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ﴾ یعنی اگر یہی چیز تمہیں تحفے میں دی جائے تو تم دینے والے کی شرم و حیا اور اس بات پر غصے کی وجہ سے کہ اس نے تمہیں وہ چیز بھیجی ہے جس کی اسے خود ضرورت نہیں تھی، اسے بمشکل ہی قبول کرو گے، ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ﴾ اور جان لو کہ اللہ تمہارے صدقات سے بے نیاز ﴿حَمِيدٌ﴾ اور قابلِ ستائش ہے۔ [سورة البقرة: 267]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3164
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن.
تخریج حدیث «إسناده حسن. السدي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن.» [ترقيم الرساله 3164] [ترقيم الشركة 3145] [ترقيم العلميه 3127]
أخبرني أبو بكر الشافعي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: كانوا يكرهون أن يَرضَخُوا لأنسِبائِهم (1) وهم مشركون، فنزلت: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ حتى بلغ ﴿وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ [البقرة: 272]، قال: فرُخِّصَ لهم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3128 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ کرام اپنے ان رشتہ داروں کو صدقہ دینا ناپسند کرتے تھے جو مشرک ہوں، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ﴾ سے لے کر ﴿وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ ”انہیں ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے... اور تمہارے ساتھ ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ [سورة البقرة: 272] تک، راوی کہتے ہیں: پس ان کے لیے غیر مسلم رشتہ داروں کی مدد کی رخصت دے دی گئی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3165
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة» [ترقيم الرساله 3165] [ترقيم الشركة 3146] [ترقيم العلميه 3128]