کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابنِ عوف کی وفات اور روح کے نکلنے کے بعد واپس آنے کا واقعہ
حدَّثَنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري، عن حُميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن أمِّه أم كُلثوم بنت عُقْبة - وكانت من المهاجرات الأُوَل - في قوله ﷿: ﴿اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ [البقرة: 153] قالت: غُشِيَ على عبد الرحمن بن عوف غَشْيةً، فظنُّوا أنه فاضَ، حتى إنه أفاض نفسَه فيها، فخرجت امرأتُه أمُّ كُلثوم إلى المسجد تستعين بما أُمِرَت به من الصبر والصلاة فلما أفاق قال: أغُشِيَ عليَّ آنفًا؟ قالوا: نعم، قال: صَدَقتُم، إنه جاءني مَلَكانِ فقالا: انطلِقْ نُحاكِمُك إلى العزيز الأمين، فقال ملكٌ آخر: ارجِعاه، فإنَّ هذا ممّن كَتَبتم له السعادةَ وهم في بطون أمَّهاتهم، ويستمتعُ به بَنُوه ما شاء الله؛ فعاش بعد ذلك شهرًا ثم مات (2)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3066 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3066 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ام المہاجرات سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ [سورة البقرة: 153] کے بارے میں مروی ہے، انہوں نے کہا کہ (ان کے شوہر) سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پر بیہوشی طاری ہو گئی، یہاں تک کہ لوگوں نے سمجھا کہ ان کی روح پرواز کر گئی ہے اور ان کا دم نکل گیا ہے۔ ان کی اہلیہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا (گھبرا کر) مسجد کی طرف نکل گئیں تاکہ اسی صبر اور نماز سے مدد حاصل کریں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ جب انہیں افاقہ ہوا تو انہوں نے پوچھا: کیا ابھی مجھ پر بیہوشی طاری ہوئی تھی؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: تم نے سچ کہا، میرے پاس دو فرشتے آئے اور کہنے لگے: چلو، ہم تمہارا معاملہ عزیز و امین (اللہ) کے پاس لے جا کر فیصلہ کرواتے ہیں۔ تب ایک اور فرشتے نے کہا: انہیں واپس لے جاؤ، کیونکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے اللہ نے اس وقت سعادت لکھ دی تھی جب وہ اپنی ماؤں کے پیٹ میں تھے، اور ان کے بیٹے جب تک اللہ چاہے گا ان سے مستفید ہوں گے۔ چنانچہ وہ اس واقعے کے بعد ایک ماہ تک زندہ رہے اور پھر وفات پائی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد، حدثنا جدِّي، حدثنا عمرو بن عَوْن الواسطي، حدثنا هُشَيم، أخبرنا خالد بن صفوان، عن زيد بن علي بن الحسين، عن أبيه، عن ابن عبَّاس قال: جاءه نَعْيُ بعضِ أهله، وهو في سفرٍ، فصلَّى ركعتين ثم قال: فَعَلْنا ما أَمر اللهُ: ﴿اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3067 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3067 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب وہ سفر میں تھے تو انہیں ان کے گھر والوں میں سے کسی کی وفات کی خبر ملی، انہوں نے (سواری سے اتر کر) دو رکعت نماز پڑھی اور پھر فرمایا: ہم نے وہی کیا جس کا اللہ نے حکم دیا ہے: ﴿اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾ [سورة البقرة: 153]۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى الحِيرِي، حدثنا مسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان ابن أبي شَيْبة، حدثنا جَرير، عن منصور، عن مجاهد، عن سعيد بن المسيّب، عن عمر قال: نِعمَ العِدْلانِ، ونعمَ العِلاوةُ: ﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ﴾ نعمَ العِدْلانِ ﴿وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾ نعمَ العِلاوةُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولا أعلمُ خِلافًا بين أئمَّتنا أنَّ سعيد بن المسيّب أَدرك أيامَ عمر ﵁، وإنما اختلفوا في سماعِه منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3068 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ولا أعلمُ خِلافًا بين أئمَّتنا أنَّ سعيد بن المسيّب أَدرك أيامَ عمر ﵁، وإنما اختلفوا في سماعِه منه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3068 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے (مصیبت پر صبر کے بارے میں) مروی ہے، انہوں نے فرمایا: یہ دو بوجھ (صبر اور صلاۃ) کیا ہی عمدہ ہیں اور یہ زائد انعام کتنا ہی بہترین ہے؛ (پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت فرمائیں:) ﴿الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ﴾، (فرمایا:) یہ دونوں (درود اور رحمت) بہترین بوجھ (انعام) ہیں، اور ﴿وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾ [سورة البقرة: 157] بہترین زائد انعام ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہمارے ائمہ کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سعید بن مسیب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے، البتہ ان کے سماع میں اختلاف ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہمارے ائمہ کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ سعید بن مسیب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے، البتہ ان کے سماع میں اختلاف ہے۔